تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

آبنائے ہرمز بحران کا حل اسلام آباد یادداشت پر عمل درآمد میں ہے، روسی وزیر خارجہ

آبنائے ہرمز

روسی وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز کے بحران سے نمٹنے کیلئے امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی یادداشت پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

روس اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے اجلاس کے دوران روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے زور دیا کہ سفارتی راستے کی بحالی اور آبنائے ہرمز کے بحران سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کی طرف لوٹا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران کی بنیادی وجوہات کا حل ضروری ہے تاکہ خطے کو کسی بڑی جنگ سے روکا جا سکے۔

سرگئی لاوروف نے ماسکو اور خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے درمیان قریبی اقتصادی و سیاسی تعلقات کو روس کی ترجیح قرار دیا۔ انہوں نے خلیج میں اجتماعی سلامتی کے تصور کو فروغ دینے کی اپیل کی، جس میں ساحلی ممالک، عراق اور اردن کے درمیان براہ راست بات چیت شامل ہو۔

انہوں نے اوپیک پلس کے تحت تعاون جاری رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ عالمی معیشت کی توانائی سلامتی کا تعلق اس خطے سے ہے۔

فلسطینی مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا راستہ سیاسی تعطل کے باعث طویل ہو چکا ہے۔

دوسری جانب یوکرینی بحران پر انہوں نے صدر زیلنسکی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ زیلنسکی معاہدہ نہیں چاہتے کیونکہ ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان کسی بھی سمجھوتے کا مطلب ان کے اقتدار کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ استنبول اور ابوظہبی مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کی ذمہ داری زیلنسکی پر عائد ہوتی ہے۔