تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

ترکیہ اور آذربائیجان میں حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر شدید تناؤ

ترکیہ اور آذربائیجان

اسکولوں میں حجاب کے ضوابط اور اسرائیل سے تعلقات کے معاملے پر ترکیہ اور آذربائیجان کی حکومتوں کے درمیان لفظی جنگ اور سفارتی تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔

ترکیہ اور آذربائیجان کے دیرینہ دوستانہ تعلقات میں پالیسیوں اور نظریہ دانہ امور پر اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ ایک قوم، دو ریاستیں کے نعرے کے تحت منسلک دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے ضوابط اور اسرائیل کے ساتھ سفارتی روابط پر سخت بیان بازی دیکھی جا رہی ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوان کے چیف مشیر اوکتائے سارال نے آذربائیجان میں اسکول یونیفارم کے نئے سیکولر ضوابط پر سخت تنقید کرتے ہوئے حجاب پر پابندی کو ناقابل قبول قرار دیا اور اسے فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

اس کے جواب میں آذربائیجان کی حکمراں جماعت ینی آذربائیجان پارٹی نے ترک حکام کے بیانات کو غیر ذمہ دارانہ اور سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ آذربائیجان کے خلاف منظم انداز میں گمراہ کن مہم اور بہتان تراشی کی جا رہی ہے۔ یہ تنازع سیکولر آذربائیجان اور ترکیہ کی مذہبی قدامت پسند قیادت کے درمیان پیدا ہونے والے فکری فرق کو ظاہر کرتا ہے۔

اختلافات کی دوسری بڑی وجہ آذربائیجان کے اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط ہیں۔ آرمینیا جنگ کے دوران اسرائیل نے آذربائیجان کو ڈرونز اور ہتھیار فراہم کیے تھے، جبکہ ترکیہ اور اسرائیل کے تعلقات غزہ جنگ کی وجہ سے شدید کشیدہ ہیں۔

ترک میڈیا نے بھی آذربائیجان کے حجاب ضوابط کو اسرائیل کی طرف جھکاؤ سے تعبیر کیا ہے۔ اس تناؤ کے دوران آذربائیجان نے ترکیہ کے ایک صحافی جلال چفتچی کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے الزامات کے تحت عالمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے ہیں۔

تاہم معاشی اور توانائی کے شعبے میں دونوں ممالک کی باہمی وابستگی کے باعث تعلقات کی مکمل بحالی کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔