کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن میں خالصتان ریفرنڈم کے دوران ہزاروں سکھ عوام نے جوش و خروش سے شرکت کی، جس میں 23 ہزار سے زائد ووٹ ڈالے گئے۔
کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن میں خالصتان ریفرنڈم کے لیے ایک تاریخی اجتماع منعقد ہوا، جس میں کینیڈا، امریکہ اور یورپ سے ہزاروں سکھ البرٹا لیجسلیچر گراؤنڈز پہنچے۔
سکھ فار جسٹس کے مطابق اس ریفرنڈم میں ریکارڈ ٹرن آؤٹ دیکھا گیا، جہاں سکھ عوام نے بڑی تعداد میں اپنی گاڑیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے آ کر اپنے ووٹ کاسٹ کیے۔ ریفرنڈم کا بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا بھارتی پنجاب کو ایک خودمختار ملک کا درجہ ملنا چاہیے؟
پولنگ کا عمل صبح 11 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک جاری رہا، تاہم طویل قطاروں میں موجود تمام افراد کو ووٹ ڈالنے کا موقع دینے کے لیے اوقات میں توسیع کی گئی اور ووٹنگ مقررہ وقت سے آگے بھی جاری رہی۔
منتظمین کے مطابق اس ریفرنڈم میں 23 ہزار سے زائد ووٹ ڈالے گئے، جو عوامی شرکت کا ایک نمایاں مظاہرہ ہے۔ کینیڈا میں 8 لاکھ سکھ آباد ہیں، جن کا جوش و خروش دیدنی تھا۔
سکھ فار جسٹس کے مطابق مودی حکومت کی مبینہ دھمکیوں اور 15 اکتوبر کو ایف بی آئی کی جانب سے سکھ رہنما گُرپتونت سنگھ پنوں کی جان کو لاحق خطرے سے آگاہ کیے جانے کے باوجود سکھوں نے ریفرنڈم کا مقام یا وقت تبدیل کرنے سے انکار کر دیا۔ ووٹنگ کے مقام پر سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے اور ہائی الرٹ رکھا گیا تھا۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی پروپیگنڈے کے باوجود یہ ریفرنڈم پرامن طریقے سے منعقد ہوا، اور 2021 سے اب تک یہ سلسلہ 8 ممالک میں کامیابی سے ہو چکا ہے، جبکہ کسی بھی اقوام متحدہ کے رکن ملک نے اسے غیر قانونی قرار نہیں دیا۔






