قطر کے نائب وزیراعظم نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد عالمی توانائی کا بحران ابھی اپنے عروج پر نہیں پہنچا اور آنے والے دنوں میں اس کے شدید اثرات مرتب ہوں گے۔
قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیر مملکت برائے امور دفاع شیخ سعود بن عبدالرحمان آل ثانی نے دوحہ میں عالمی سیکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کی وجہ سے عالمی توانائی، عالمی تجارت اور معاشی ترقی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبے میں بحران ابھی اپنے عروج پر نہیں پہنچا اور ان کے اثرات آنے والے دنوں اور مہینوں میں مزید سامنے آئیں گے۔
یہ بیان 28 فروری کو ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں اور اس کے جواب میں ایرانی ردعمل کے بعد آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ مارچ میں قطر کے راس لفان صنعتی کمپلیکس پر ایرانی حملے سے تنصیبات کو نقصان پہنچا تھا جس کی مرمت میں چند سال لگ سکتے ہیں۔
قطری نائب وزیراعظم نے بتایا کہ راس لفان صنعتی کمپلیکس پر ایرانی حملے نے انہیں حیران کیا تھا تاہم اس کے بعد سے ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور قطر نے اپنی تمام اثاثوں کو غیر متوقع حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔
انہوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس یا عائد کیے جانے والے کسی بھی قسم کے معاوضے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عالمی سطح پر صارفین متاثر ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ قطر اور ایران کے درمیان تعلقات پہلے سے قائم اعتماد اور مشترکہ گیس فیلڈ پر مبنی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ قطر، پاکستان اور عمان کی ثالثی کی کوششوں سے امریکہ، ایران اور دیگر فریقین کے درمیان معاہدا طے پا جائے گا۔
قطری رہنماء نے کا کہ پائیدار حل کے لیے خلیج تعاون کونسل کے ممالک، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان وسیع تر علاقائی بات چیت ضروری ہے۔ انہوں نے ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کی تجویز بھی دی تا کہ مستقبل کے تنازعات سے بچا جا سکے۔






