امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی کے لیے نیٹو اتحادیوں سے مدد مانگ کر ان کے امریکی مؤقف کی حمایت اور وفاداری کا امتحان لیا تھا، جس میں وہ ناکام رہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینسر میں ایک انتخابی ریلی کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نیٹو کے اتحادیوں سے ایران کے معاملے پر امریکہ کا ساتھ دینے کی درخواست کی تھی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق، اگرچہ امریکہ کو ایران کے خلاف کارروائی میں کسی ملک کی مدد کی ضرورت نہیں تھی، لیکن وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ مشکل گھڑی میں امریکی اتحادی کتنے مخلص ہیں۔
انہوں نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نیٹو پر ہر سال اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے اور تمام ارکان کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے، لیکن جب واشنگٹن نے نیٹو ممالک سے مدد مانگی تو انہوں نے صاف انکار کر دیا۔
ٹرمپ نے اس رویے پر انتہائی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتحادیوں کی یہ عدم تعاون کی پالیسی ایسی بات ہے، جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔
اس کے علاوہ امریکی صدر نے ایران کی فوجی اور دفاعی صلاحیتوں کی تباہی کا دعویٰ دہراتے ہوئے کہا کہ ایرانی بحریہ اب مکمل طور پر سمندر کی تہہ میں پہنچ چکی ہے اور اس کے 229 جنگی طیارے ایران کے رن ویز پر جلی ہوئی حالت میں بکھرے پڑے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی حکومت کی پہلی اور دوسری صف کی تمام تر اعلیٰ قیادت کا خاتمہ ہو چکا ہے اور تیسری صف کے رہنما بھی ادھورے رہ گئے ہیں، جس کے باعث واشنگٹن کو یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ کس کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھے۔






