روسی توانائی برآمدات پر امریکی رعایتوں اور مشرق وسطیٰ کے سپلائی خطرات کے تناظر میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تنزل دیکھا گیا ہے۔
منگل کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کی بنیادی وجہ تاجروں اور مارکیٹ کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر کا جائزہ لینا تھا، جس کے تحت روسی توانائی کی برآمدات سے منسوب بعض پابندیوں اور ٹیرف میں چھوٹ دیدی گئی ہے۔
تا ہم، دوسری جانب سعودی عرب اور یمن پر ہونے والے حالیہ حملوں کے باعث مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی عالمی سپلائی متاثر ہونے کا خوف بھی مارکیٹ میں برقرار ہے۔
تجارتی اعداد و شمار کے مطابق برینٹ کرُوڈ فیوچرز کے نرخ 49 سینٹ یا 0.45 فیصد کی کمی کے بعد 109.06 ڈالر فی بیرل پر آ گئے۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کا نومبر کی ترسیل کا معاہدہ، جو منگل کو ختم ہونے جا رہا تھا، 0.33 فیصد کمی کے ساتھ 103.32 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اس قدم سے فی الحال توانائی کے عالمی بحران کو کچھ حد تک سنبھالا ملا ہے۔






