امریکی صدر نے ایرانی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ان پر سڑک کناروں کے بموں سے امریکیوں کو ہلاک کرنے اور مظاہرین کو کرینوں سے لٹکانے کے شدید الزامات عائد کیے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینسز میں اپنی تقریر کے دوران تہران پر سخت حملے کیے اور ایرانی حکومت پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت یہ گارنٹی چاہتی تھی کہ امریکہ ان پر حملے نہ کرے، جس طرح ماضی میں دیگر کو نشانہ بنایا گیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے گزشتہ برسوں کے دوران اپنے روڈ سائیڈ بموں سے متعدد امریکیوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میری پہلی صدارتی مدت میں جنرل قاسم سلیمانی کو مارا گیا تھا، جنہیں اپ جانتے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی صدر نے ایران میں اندرونی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے سنگین الزام لگایا کہ پچھلے آٹھ مہینوں کے دوران ایرانی حکومت نے 75 ہزار مظاہرین کو ہلاک کیا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ ایرانی کیوں نہیں احتجاج کرتے؟ سڑکوں کے آخری سرے پر جب مشین گنیں تانی گئی ہوں تو احتجاج کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ تہران میں مظاہرین کو کرینوں پر لٹکایا جاتا ہے تاکہ سب دیکھ سکیں، جو کہ انتہائی دکھ دہ بات ہے۔






