تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

فرانس میں شدید ہنگاموں اور لوٹ مار کے بعد پیرس سمیت دیگر بڑے شہروں میں رات کا کرفیو نافذ

فرانس

فرانس میں شدید ہنگامہ آرائی اور ملک گیر لوٹ مار کے بعد پیرس اور دیگر بڑے شہروں میں فوری رات کا کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

فرانس میں شدید پرتشدد مظاہروں اور دکانوں کی لوٹ مار کے بعد فرانسیسی حکام نے پیرس کے وسطی حصوں سمیت متعدد اہم شہروں میں رات کا کرفیو لگا دیا ہے۔

پیرس پولیس کا کہنا ہے کہ کرفیو مقامی وقت کے مطابق رات 11:00 بجے سے صبح 06:00 بجے تک نافذ رہے گا۔ یہ پابندی خاص طور پر پلاس ڈی لا ریپبلک اور لیس ہالس کے شاپنگ ایریاز میں عائد کی گئی ہے، جہاں غیر قانونی اجتماعات پر مکمل قدغن لگا دی گئی ہے۔ پیرس کے علاوہ مارسیل، بوردو، نیس، لیون اور لِل میں بھی نوجوانوں کی نقل و حرکت پر جزوی کرفیو نافذ ہے۔

فرانسیسی وزیر داخلہ لورنٹ نونیز، جن کا استعفیٰ صدر میکرون نے مسترد کر دیا تھا، نے اعتراف کیا کہ پولیس کچھ شہروں میں امن و امان پر کنٹرول کھو چکی تھی۔

مظاہرے جو دراصل اسکولوں کی بہتر صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں سے شروع ہوئے تھے، اب شدید پرتشدد روپ دھار چکے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ڈھائی ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، ایک مظاہرین سے جھڑپوں میں ایک ہزار سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

فرانسیسی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ایک نیا قانون پاس کیا جائے گا تاکہ املاک کو نقصان پہنچانے والے مظاہرین سے ہی مالی تاوان وصول کیا جا سکے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2 ہزار سے زائد دکانوں کو نقصان پہنچا ہے، جس کا تخمینہ سیکڑوں ملین یورو لگایا گیا ہے۔