فرانس میں شدید ہنگامہ آرائی اور ملک گیر لوٹ مار کے بعد پیرس اور دیگر بڑے شہروں میں فوری رات کا کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
فرانس میں شدید پرتشدد مظاہروں اور دکانوں کی لوٹ مار کے بعد فرانسیسی حکام نے پیرس کے وسطی حصوں سمیت متعدد اہم شہروں میں رات کا کرفیو لگا دیا ہے۔
پیرس پولیس کا کہنا ہے کہ کرفیو مقامی وقت کے مطابق رات 11:00 بجے سے صبح 06:00 بجے تک نافذ رہے گا۔ یہ پابندی خاص طور پر پلاس ڈی لا ریپبلک اور لیس ہالس کے شاپنگ ایریاز میں عائد کی گئی ہے، جہاں غیر قانونی اجتماعات پر مکمل قدغن لگا دی گئی ہے۔ پیرس کے علاوہ مارسیل، بوردو، نیس، لیون اور لِل میں بھی نوجوانوں کی نقل و حرکت پر جزوی کرفیو نافذ ہے۔
فرانسیسی وزیر داخلہ لورنٹ نونیز، جن کا استعفیٰ صدر میکرون نے مسترد کر دیا تھا، نے اعتراف کیا کہ پولیس کچھ شہروں میں امن و امان پر کنٹرول کھو چکی تھی۔
مظاہرے جو دراصل اسکولوں کی بہتر صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں سے شروع ہوئے تھے، اب شدید پرتشدد روپ دھار چکے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ڈھائی ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، ایک مظاہرین سے جھڑپوں میں ایک ہزار سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
فرانسیسی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ایک نیا قانون پاس کیا جائے گا تاکہ املاک کو نقصان پہنچانے والے مظاہرین سے ہی مالی تاوان وصول کیا جا سکے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2 ہزار سے زائد دکانوں کو نقصان پہنچا ہے، جس کا تخمینہ سیکڑوں ملین یورو لگایا گیا ہے۔






