تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

امریکی سینیٹرز کا پینٹاگون سے ایران کے خلاف جنگ کے اصل اخراجات ظاہر کرنے کا مطالبہ

سینیٹرز

امریکہ کے پانچ ڈیموکریٹک سینیٹرز نے پینٹاگون سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران جنگ کے تمام تر اور حقیقی اخراجات عوام کے سامنے ظاہر کرے۔

سینیٹر الزبتھ وارن کی قیادت میں پانچ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹرز نے امریکی سینٹ کام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کو ایک مشترکہ خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ کے اخراجات چھپانے کی کوششوں کو نامناسب قرار دیا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی ملٹری بیسز کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ، ان کی مرمت کا شیڈول اور متبادل تنصیبات کے اخراجات کی تمام تر تفصیلات فراہم کی جائیں۔

امریکی ملٹری کا یہ تخمینہ ہے کہ 3 ستمبر تک اس جنگ پر 43.6 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، لیکن اس رقم میں ان امریکی اڈوں کو پہنچنے والے مالی نقصان کو شامل نہیں کیا گیا، جنہیں ایرانی حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

سینیٹرز نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ امریکی عوام کو ٹرمپ انتظامیہ کی اس غیر مجاز ایران جنگ کے مکمل اخراجات جاننے کا پورا حق حاصل ہے۔

سینیٹرز نے مؤقف اختیار کیا کہ ان مالی اعداد و شمار کو خفیہ رکھنے کی کوئی منطق نہیں ہے کیونکہ امریکی اور اتحادی اڈوں کی تباہی سے اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔