انٹیلی جنس کی فراہمی میں کمی، روسی توانائی پر پابندیوں میں نرمی اور روسی ریفائنریوں پر یوکرینی ڈرون حملوں کے باعث واشنگٹن اور کیف کے تعلقات اب تک کی سب سے شدید ترین دراڑ کا شکار نظر آ رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کے درمیان باہمی اعتماد کی کمی اب کھلم کھلا سفارتی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کھلے عام الزام لگایا ہے کہ زیلنسکی کو صورتحال کی سمجھ نہیں ہے اور انہوں نے یہاں تک تجویز دے دی کہ یوکرین کی طرف سے مذاکرات کے لیے اب کسی اور شخص کو سامنے لایا جانا چاہیے۔
دوسری طرف، کیف نے صدر ٹرمپ کی جانب سے روسی ریفائنریوں پر حملے نہ کرنے کے مطالبے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے روس کے سب سے بڑے آئل ٹرمینل پر رواں سال کا سب سے بڑا ڈرون حملہ کیا۔
واشنگٹن دراصل امریکی انتخابات سے قبل ملک میں ڈیزل اور تیل کی بلند قیمتوں پر قابو پانا چاہتا ہے، جس کی وجہ سے وہ نہیں چاہتا کہ یوکرین روسی ریفائنریز کو نشانہ بنائے۔
اس کشیدگی نے اس وقت اور زیادہ خطرناک شکل اختیار کر لی جب امریکی حکام نے یوکرین کے لیے ایلون مسک کے اسٹار لنک انٹرنیٹ سسٹم کی رفتار کو محدود کیا اور سیٹلائٹ کے ذریعے انٹیلی جنس ڈیٹا اور بالسٹک میزائلز کی پیشگی اطلاع دینا بند یا سست کر دیی۔
زیلنسکی نے امریکی اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ روس کی مدد کرنا یا اس کے ساتھ لچک دکھانا ایک تاریخی غلطی ثابت ہوگی۔
یورپ اور کیف میں اب یہ خوف مسلسل بڑھ رہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ولادیمیر پیوٹن کو امن معاہدے پر راضی کرنے کے لیے مزید یکطرفہ مراعات دے سکتی ہے، جس سے یوکرین کا مؤقف ملیا میٹ ہو کر رہ جائے گا۔






