تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

20 سال پہلے سے زیادہ تیز دماغ ہوں، وجہ خود بھی نہیں جانتا! ٹرمپ کے دعوے نے نئی بحث چھیڑ دی

ٹرمپ کا ذہنی صلاحیت سے متعلق دعویٰ

واشنگٹن (جی ٹی وی نیوز اردو) — 20 اکتوبر 2026: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی عمر اور ذہنی صلاحیت سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا دماغ 20 سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیز ہے، تاہم وہ خود بھی اس کی وجہ نہیں جانتے۔

ٹرمپ نے یہ بات 19 اکتوبر کو امریکی ریاست کنساس کے شہر پارک سٹی میں ری پبلکن سینیٹر راجر مارشل کی انتخابی مہم کے سلسلے میں منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

امریکی صدر نے اپنی ذہنی کارکردگی پر ہونے والی تنقید کے ساتھ ساتھ سابق صدر جو بائیڈن، سابق نائب صدر کملا ہیرس اور امریکی میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

’’میرا دماغ 20 سال پہلے سے زیادہ تیز ہے‘‘

اپنی ذہنی صلاحیت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ خود کو آج بھی پہلے جیسا محسوس کرتے ہیں، تاہم ان کے خیال میں ان کا دماغ 20 سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیز ہوگیا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ انہیں خود معلوم نہیں کہ ایسا کیوں ہے، لیکن وہ اپنی ذہنی کارکردگی میں بہتری محسوس کرتے ہیں۔

80 سالہ امریکی صدر کی عمر اور ان کی طویل سیاسی سرگرمیاں پہلے بھی امریکی سیاست میں بحث کا موضوع رہی ہیں، بالخصوص اس تناظر میں کہ عمر رسیدہ سیاسی رہنماؤں کی ذہنی اور جسمانی کارکردگی کو کس طرح جانچا جائے۔

تین مرتبہ ذہنی امتحان پاس کرنے کا دعویٰ

کنساس کے جلسے میں ٹرمپ نے اپنی ذہنی صلاحیت جانچنے کے لیے دیے گئے طبی امتحانات کا بھی ذکر کیا۔

ان کے مطابق پہلی صدارتی مدت کے دوران انہوں نے دو مرتبہ ایسے ٹیسٹ دیے اور دونوں مرتبہ تمام سوالات کے درست جواب دیے۔ دوسری صدارتی مدت میں بھی ایک اور امتحان میں مکمل نمبر حاصل کرنے کا دعویٰ کیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ جب پہلی مرتبہ اچھا نتیجہ سامنے آیا تو میڈیا نے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی، تاہم بار بار اچھے نتائج آنے کے بعد یہ سوال اٹھایا گیا کہ وہ ذہنی صلاحیت کے امتحانات بار بار کیوں دے رہے ہیں۔

انہوں نے اس صورتحال کو میڈیا کے رویے سے جوڑتے ہوئے کہا کہ آسان سوالات کو نمایاں کرکے پورے امتحان کی نوعیت کو معمولی ظاہر کیا جاتا ہے۔

زرافے کی تصویر سے لے کر مشکل سوالات تک

ٹرمپ نے ذہنی امتحان کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی مراحل میں مختلف جانوروں کی تصاویر دکھا کر ان کی شناخت کرنے جیسے سوالات بھی شامل ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے زرافے، شیر، ریچھ اور سانپ کی تصاویر کی مثال دی اور کہا کہ بعض لوگ ایسے آسان سوالات کو پورے امتحان کی نمائندگی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

ٹرمپ کے مطابق امتحان کے اگلے مراحل میں یادداشت، توجہ، حساب کتاب اور دیگر ذہنی صلاحیتوں سے متعلق نسبتاً مشکل سوالات بھی شامل ہوتے ہیں۔

انہوں نے حساب کتاب کی ایک مثال بھی بیان کی جس میں کسی عدد کو مختلف مراحل میں ضرب، تقسیم، جمع اور تفریق کے ذریعے تبدیل کرنے کا سوال شامل تھا۔

ذہنی امتحان مکمل ذہانت کا پیمانہ نہیں

ذہنی صلاحیت جانچنے والے مختصر طبی امتحانات عموماً یادداشت، توجہ، زبان، شناخت اور دیگر بنیادی ذہنی افعال کا جائزہ لینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

کسی ٹیسٹ میں اچھا نتیجہ کسی مخصوص وقت میں فرد کی ذہنی کارکردگی کے بارے میں معلومات فراہم کرسکتا ہے، تاہم اسے مکمل ذہانت، فیصلہ سازی یا طویل عرصے میں ذہنی صلاحیت میں ہونے والی تبدیلی کا جامع پیمانہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

اسی لیے ٹرمپ کی جانب سے امتحانات میں مکمل نمبر حاصل کرنے کے دعوے اور 20 سال پہلے کے مقابلے میں ذہنی طور پر زیادہ تیز ہونے کے بیان کو الگ الگ دیکھا جانا ضروری ہے۔

2024 میں بھی ایسا ہی دعویٰ

ٹرمپ اس سے قبل بھی اپنی ذہنی صلاحیت کے حوالے سے اسی نوعیت کا بیان دے چکے ہیں۔

جنوری 2024 میں لاس ویگاس میں انتخابی جلسے سے خطاب کے دوران بھی انہوں نے خود کو 20 سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ ذہنی طور پر تیز قرار دیا تھا۔

اس وقت امریکی سیاست میں صدارتی امیدواروں کی عمر اور ذہنی کارکردگی کا معاملہ نمایاں بحث کا حصہ بنا ہوا تھا۔

بائیڈن اور کملا ہیرس پر بھی تنقید

کنساس کے جلسے میں ٹرمپ نے سابق صدر جو بائیڈن اور سابق نائب صدر کملا ہیرس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کی ذہنی کارکردگی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے۔

ٹرمپ ماضی میں بائیڈن کی عمر اور ذہنی کارکردگی کو اپنی سیاسی مہم میں نمایاں موضوع بناتے رہے ہیں، تاہم اب خود 80 برس کی عمر میں صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے باعث ان کی اپنی عمر بھی سیاسی بحث کا حصہ ہے۔

کنساس کا جلسہ انتخابی مہم کا حصہ

ٹرمپ کا کنساس کا دورہ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ری پبلکن امیدواروں کی حمایت کے لیے جاری مہم کا حصہ تھا۔

پارک سٹی کے جلسے میں انہوں نے ری پبلکن سینیٹر راجر مارشل کی حمایت کی، جو ڈیموکریٹک امیدوار ایڈم ہیملٹن کے مقابلے میں انتخاب لڑ رہے ہیں۔

جلسے میں سیاسی معاملات کے ساتھ مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں، ایران کے ساتھ جنگ اور معاشی دباؤ جیسے موضوعات بھی نمایاں رہے۔

عمر اور ذہنی صلاحیت کی بحث پھر سامنے آگئی

ٹرمپ کا تازہ بیان ایک مرتبہ پھر امریکی سیاست میں صدارتی امیدواروں اور حکمرانوں کی عمر، ذہنی کارکردگی اور عوامی ذمہ داریوں سے متعلق بحث کو نمایاں کر رہا ہے۔

امریکی صدر کا مؤقف ہے کہ وہ ذہنی طور پر پہلے سے زیادہ تیز ہیں اور اپنی کارکردگی کو متعدد ذہنی امتحانات کے نتائج سے جوڑتے ہیں۔

تاہم کسی فرد کی مجموعی ذہنی صلاحیت یا کئی دہائیوں کے دوران اس میں ہونے والی تبدیلی کا تعین صرف سیاسی تقریر یا مختصر ذہنی امتحان کی بنیاد پر نہیں کیا جاسکتا۔