امریکہ کے خصوصی ایلچی ٹام باراک نے کہا ہے کہ یمن میں زمینی مداخلت بے معنی معلوم ہوتی ہے، مشرق وسطیٰ کے ممالک کو اپنے مسائل خود حل کرنے کے لیے علاقائی اتحاد بنانے چاہئیں۔
دوحہ میں منعقدہ گلوبل سیکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے ترکیہ میں امریکی سفیر اور شام و عراق کے لیے صدارتی خصوصی ایلچی ٹام باراک نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب کو لاجسٹک مدد فراہم کر رہے ہیں، تاہم حوثی ملیشیا کے تنازع میں امریکہ کی زمینی فوج کی مداخلت کا کوئی جواز نہیں بنتا اور یہ بلکل بے معنی ہے۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ کے ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے واشنگٹن پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے باہمی علاقائی اتحاد تشکیل دیں۔
ٹام باراک نے مزید کہا کہ امریکہ اب دوسرے ممالک کے امور کو کنٹرول کرنے کی پالیسی سے دور ہو رہا ہے لیکن خطے میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گا۔
ایران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ چاہتا ہے تاکہ آبنائے ہرمز کا بحران حل ہو سکے، تاہم دونوں فریقین کے درمیان گہرا عدم اعتماد سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کر رہا ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ ماضی میں حکومتیں تبدیل کرنے کی ہر امریکی کوشش ایک غلطی ثابت ہوئی ہے اور اس کے منفی نتائج برآمد ہوئے ہیں۔






