تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

اب دوسرے ممالک کو کنٹرول نہیں کریں گے، مشرق وسطیٰ کے ممالک امریکہ پر انحصار چھوڑ کر علاقائی اتحاد بنائیں، امریکی سفیر

مشرق وسطیٰ

امریکہ کے خصوصی ایلچی ٹام باراک نے کہا ہے کہ یمن میں زمینی مداخلت بے معنی معلوم ہوتی ہے، مشرق وسطیٰ کے ممالک کو اپنے مسائل خود حل کرنے کے لیے علاقائی اتحاد بنانے چاہئیں۔

دوحہ میں منعقدہ گلوبل سیکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے ترکیہ میں امریکی سفیر اور شام و عراق کے لیے صدارتی خصوصی ایلچی ٹام باراک نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب کو لاجسٹک مدد فراہم کر رہے ہیں، تاہم حوثی ملیشیا کے تنازع میں امریکہ کی زمینی فوج کی مداخلت کا کوئی جواز نہیں بنتا اور یہ بلکل بے معنی ہے۔

انہوں نے مشرق وسطیٰ کے ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے واشنگٹن پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے باہمی علاقائی اتحاد تشکیل دیں۔

ٹام باراک نے مزید کہا کہ امریکہ اب دوسرے ممالک کے امور کو کنٹرول کرنے کی پالیسی سے دور ہو رہا ہے لیکن خطے میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گا۔

ایران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ چاہتا ہے تاکہ آبنائے ہرمز کا بحران حل ہو سکے، تاہم دونوں فریقین کے درمیان گہرا عدم اعتماد سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کر رہا ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ ماضی میں حکومتیں تبدیل کرنے کی ہر امریکی کوشش ایک غلطی ثابت ہوئی ہے اور اس کے منفی نتائج برآمد ہوئے ہیں۔