تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائی، تعز کے محاذ پر 744 حملے، معتدد حوثی جنگجو ہلاک کرنے کا دعویٰ

حوثیوں

یمن میں سرکاری افواج نے حوثیوں کے مضبوط گڑھ تعز پر فوجی دباؤ شدید بڑھا دیا ہے، جہاں 24 گھنٹوں کے دوران سینکڑوں حملے کیے گئے، متعدد جنگجوؤں کو ہلاک یا غیر فعال کر دیا گیا۔

یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری بڑے فوجی آپریشن کے دوران سرکاری افواج نے تعز کے محاذ پر دباؤ میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔

یمنی فوج کے ترجمان کرنل ماجد عبداللہ النزیلی کے مطابق آپریشن ڈان آف یمن کے دوران گزشتہ 24 گھنٹوں میں حوثیوں کے 744 قانونی عسکری ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔

ان کارروائیوں میں حوثیوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، اسلحہ بردار مورچوں، مضبوط ٹھکانوں اور رسدی راستوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔

ترجمان کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں 200 حوثی جنگجوؤں کو ہلاک یا لڑائی سے باہر یعنی غیر فعال کر دیا گیا ہے، جبکہ 90 فوجی گاڑیاں اور دیگر اہم عسکری سہولیات مکمل طور پر تباہ یا ناکارہ بنا دی گئی ہیں۔

اس وسیع پیمانے کے آپریشن میں یمنی فوج کے جنگی طیاروں، ڈرونز، توپ خانے، راکٹ لانچرز اور اسنائپر یونٹس نے حصہ لیا۔ اس وقت تعز سمیت مشرقی، جنوبی اور مغربی محاذوں پر سرکاری افواج کی پیش قدمی کا سلسلہ جاری ہے۔