یمن میں سرکاری افواج نے حوثیوں کے مضبوط گڑھ تعز پر فوجی دباؤ شدید بڑھا دیا ہے، جہاں 24 گھنٹوں کے دوران سینکڑوں حملے کیے گئے، متعدد جنگجوؤں کو ہلاک یا غیر فعال کر دیا گیا۔
یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری بڑے فوجی آپریشن کے دوران سرکاری افواج نے تعز کے محاذ پر دباؤ میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔
یمنی فوج کے ترجمان کرنل ماجد عبداللہ النزیلی کے مطابق آپریشن ڈان آف یمن کے دوران گزشتہ 24 گھنٹوں میں حوثیوں کے 744 قانونی عسکری ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔
ان کارروائیوں میں حوثیوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، اسلحہ بردار مورچوں، مضبوط ٹھکانوں اور رسدی راستوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔
ترجمان کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں 200 حوثی جنگجوؤں کو ہلاک یا لڑائی سے باہر یعنی غیر فعال کر دیا گیا ہے، جبکہ 90 فوجی گاڑیاں اور دیگر اہم عسکری سہولیات مکمل طور پر تباہ یا ناکارہ بنا دی گئی ہیں۔
اس وسیع پیمانے کے آپریشن میں یمنی فوج کے جنگی طیاروں، ڈرونز، توپ خانے، راکٹ لانچرز اور اسنائپر یونٹس نے حصہ لیا۔ اس وقت تعز سمیت مشرقی، جنوبی اور مغربی محاذوں پر سرکاری افواج کی پیش قدمی کا سلسلہ جاری ہے۔






