تازہ ترین
عالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!عالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!
دنیا

ایران آبنائے ہرمز میں نازیوں والے طریقہ کار استعمال کر رہا ہے، مارکو روبیو

ایران آبنائے ہرمز

امریکی وزیرِ نے ایران پر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے طریقہ کار کو دوسری جنگِ عظیم کے نازی اقدامات سے تشبیہ دی ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایران پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں اور ان کے عملے کو نشانہ بنا رہا ہے۔

انہوں نے بھارتی میڈیا نیٹ ورک 18 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد اس طرح کے واقعات نہیں دیکھے گئے اور ایران اس وقت نازیوں کی یو بوٹ والی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔

مارکو روبیو نے خبردار کیا کہ تہران کی حکومت بنیادی پرست شعیہ علماء کے ہاتھ میں ہے، جس کے باعث ان کے ساتھ سفارتی حل تلاش کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن ایران پر غیر معمولی اقتصادی دباؤ برقرار رکھے گا تاکہ خطے میں موجود اس کے پراکسی اور عسکری پیداوار کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کو مکمل طور پر روکا جا سکے۔