ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور حوثیوں نے لڑائی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی پیشکش کا ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران بتایا کہ تہران نے سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان جاری جنگ کو روکنے کے لیے گفتگو میں سہولت کاری کی پیشکش کی تھی، تاہم دونوں فریقین میں سے کسی نے بھی اس کا جواب نہیں دیا ہے۔
یاد رہے کہ یہ پیشکش رواں ماہ کے آغاز میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں شدت کے بعد کی گئی تھی۔
عراقی نیوز چینل الاخباریہ کو دیئے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی نے حوثیوں کے خلاف جنگ میں مصر کی ممکنہ شمولیت پر بھی بات کی۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی غیر ملکی مداخلت سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی، تاہم قاہرہ نے ماضی میں تہران کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ یمن کے تنازع میں براہِ راست مداخلت نہیں کرے گا۔
دوسری جانب مصر کی پارلیمنٹ میں حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی سے متعلق ممکنہ ووٹنگ 26 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔






