ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور قطر کے ذریعے امریکہ سے بات چیت جاری ہے، تاہم تہران دھمکیوں یا پابندیوں کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایرانی اور عراقی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تہران نے ماضی میں واشنگٹن کو 7 روزہ منصوبہ پیش کیا تھا، جس میں ایران نے اپنی شرائط واضح طور پر بیان کی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ امریکی حکام نے ان شرائط سے اتفاق کیا تھا لیکن وہ اس میں مزید کچھ شقیں شامل کرنا چاہتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی طرزِ عمل پر بلکل بھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
عباس عراقچی نے زور دیا کہ اگر امریکہ طے شدہ سمجھوتوں کی پاسداری کرے تو سفارت کاری کا راستہ مکمل طور پر کھلا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی میز ابھی بھی موجود ہے اور دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ راستے بند کرنے والا فریق امریکہ ہے نہ کہ ایران۔
انہوں نے امریکہ کی دباؤ کی پالیسی کو رد کرتے ہوئے کہا کہ 8 ماہ سے زائد جاری جنگ کے باوجود واشنگٹن اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، جو امریکہ کی حکمتِ عملی کی شکست اور ایران کی فتح ہے۔
آبنائے ہرمز کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ یہ واٹر وے ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں میں آتا ہے اور اس کا عالمی پانیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے لبنانی تنظیم حزب اللہ اور یمن کے انصار اللہ (حوثیوں) کو تہران کا دوست قرار دیا کیونکہ وہ جائز مقاصد کے لیے مزاحمت کر رہے ہیں۔






