ایرانی حکام نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پابندیوں کے باوجود ملک معاشی تباہی کا شکار نہیں ہوا اور نہ ہی پاسدارانِ انقلاب کی مالی قوت ختم ہوئی ہے۔
ایرانی حکام نے امریکی دعوؤں کو سخت ردِعمل دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے، جن میں کہا گیا تھا کہ تہران اپنے علاقائی اتحادیوں کی مالی مدد کرنے کے قابل نہیں رہا۔
تاہم، ایرانی حکومت نے یہ تسلیم کیا ہے کہ امریکی پابندیوں اور جنگی حالات نے ملک میں معاشی مشکلات پیدا کی ہیں۔ اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی عسکری حملوں اور بحری ناکہ بندی نے ایران کے خام تیل کی 25 ارب ڈالر کی برآمدات کو روکا ہے اور 35 کروڑ ڈالر کے کریپٹو اثاثے منجمد کیے ہیں۔
امریکی سینٹکام کے مطابق اس معاشی دباؤ کے باعث پاسدارانِ انقلاب اپنے اہلکاروں اور علاقائی گروہوں کو معاوضے ادا کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔
تاہم ایرانی مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتی نے ان دعوؤں کو ایک وہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام تر دباؤ کے باوجود ایرانی معیشت نے زبردست لچک دکھائی ہے اور تباہی کا دعویٰ محض ایک تصور ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی اعتراف کیا کہ بحری ناکہ بندی اور عسکری حملوں نے مسائل پیدا کیے ہیں، لیکن ان کی حکومت اندرونی صلاحتیوں اور پٹرولیم مصنوعات کے بہتر استعمال کے ذریعے ان حالات کا مقابلہ کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایندھن کے بوجھ کو کم کر کے 12 ارب ڈالر کی بچت کی گئی ہے، جو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جائے گی۔






