تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

سوڈان کے متنازع سرحدی علاقے میں ڈرون حملہ، 153 افراد ہلاک

سوڈان

سوڈان کے متنازع سرحدی علاقے ابیئی کی منڈی پر ڈرون حملے اور تیل کے ڈپو میں آگ لگنے کے نتیجے میں 153 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

سوڈان اور جنوبی سوڈان کے درمیان متنازع سرحدی علاقے ابیئی کی ایک مصروف امیت مارکیٹ پر کیے گئے ڈرون حملے کے نتیجے میں 153 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ابیئی انتظامیہ کے نگران وزیرِ اطلاعات یوہانا اکول نگور کے مطابق ڈرون قریبی ایندھن کے ڈپو سے جا ٹکرايا، جس سے وہاں ہولناک آگ بھڑک اٹھی، جو اگلے روز تک جلتی رہی، انہوں نے اس تباہ کن حملے کا الزام سوڈانی فوج پر عائد کیا ہے۔

سوڈانی فوج کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فوج نے جنوبی سوڈان سے ان آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا تھا، جو حریف پیراملٹری گروپ ریپڈ سپورٹ فورسز کے لیے ایندھن لے جا رہے تھے۔

فوجی افسر کا دعویٰ تھا کہ ہلاک ہونے والے افراد آر ایس ایف کے اہلکار اور ایندھن کی اسمگلنگ میں ملوث لوگ تھے اور عام شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

دوسری جانب ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے بتایا کہ اب تک 20 سے زائد شدید زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جن میں سے اکثر جھلس چکے ہیں۔

جنوبی سوڈان کی وزارتِ خارجہ نے اس واقعے پر سوڈانی سفیر کو طلب کر کے شدید احتجاج درج کرایا ہے اور شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

2023 سے سوڈانی فوج اور آر ایس ایف کے درمیان جاری جنگ نے سرحد کے دونوں اطراف شدید تباہی مچائی ہے۔