سوڈان کے متنازع سرحدی علاقے ابیئی کی منڈی پر ڈرون حملے اور تیل کے ڈپو میں آگ لگنے کے نتیجے میں 153 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
سوڈان اور جنوبی سوڈان کے درمیان متنازع سرحدی علاقے ابیئی کی ایک مصروف امیت مارکیٹ پر کیے گئے ڈرون حملے کے نتیجے میں 153 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
ابیئی انتظامیہ کے نگران وزیرِ اطلاعات یوہانا اکول نگور کے مطابق ڈرون قریبی ایندھن کے ڈپو سے جا ٹکرايا، جس سے وہاں ہولناک آگ بھڑک اٹھی، جو اگلے روز تک جلتی رہی، انہوں نے اس تباہ کن حملے کا الزام سوڈانی فوج پر عائد کیا ہے۔
سوڈانی فوج کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فوج نے جنوبی سوڈان سے ان آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا تھا، جو حریف پیراملٹری گروپ ریپڈ سپورٹ فورسز کے لیے ایندھن لے جا رہے تھے۔
فوجی افسر کا دعویٰ تھا کہ ہلاک ہونے والے افراد آر ایس ایف کے اہلکار اور ایندھن کی اسمگلنگ میں ملوث لوگ تھے اور عام شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
دوسری جانب ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے بتایا کہ اب تک 20 سے زائد شدید زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جن میں سے اکثر جھلس چکے ہیں۔
جنوبی سوڈان کی وزارتِ خارجہ نے اس واقعے پر سوڈانی سفیر کو طلب کر کے شدید احتجاج درج کرایا ہے اور شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
2023 سے سوڈانی فوج اور آر ایس ایف کے درمیان جاری جنگ نے سرحد کے دونوں اطراف شدید تباہی مچائی ہے۔






