اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپوزیشن اور طلباء کے احتجاج کے خلاف بلاجواز اور بے جا طاقت کا استعمال فوری طور پر بند کرے۔
اقوامِ متحدہ کے 24 آزاد ماہرین نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے بھارتی حکام سے اپوزیشن اور طلباء کے مظاہروں کے خلاف لاٹھی چارج اور بے جا طاقت کے استعمال پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے اور دورانِ حراست ان سے بدسلوکی کی اطلاعات ملی ہیں۔ بیان میں خاص طور پر مظاہروں کے دوران اور حراست میں لیے گئے افراد کے خلاف جنسی اور صنف پر مبنی تشدد کی اطلاعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
یہ مظاہرے بھارت کی کاکروچ جنتا پارٹی، دیگر اپوزیشن جماعتوں اور طلباء تنظیموں کی جانب سے کیے جا رہے ہیں، جو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ ووٹر فہرستوں سے 13 کروڑ 50 لاکھ نام نکالے گئے ہیں، جن میں غریب، بے گھر اور اقلیتی طبقے خاص طور پر مسلمان شامل ہیں، جو نریندر مودی کی بھارتی جنتا پارٹی کو ووٹ نہیں دیتے تھے۔
الیکشن کمیشن اور بي جے پی نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ تاہم اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ طاقت کے استعمال، اجتماعی اجتماعات پر پابندیوں اور انٹرنیٹ یا بائیومیٹرک نگرانی کے غلط استعمال کو فوری طور پر بند کرے۔ بھارت نے ان تنقیدوں کو ہمیشہ کی طرح اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔






