تازہ ترین
عالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!عالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!
دنیا

عراق نے ایران کے ساتھ شیب بارڈر غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا

شیب بارڈر

عراق نے سیکیورٹی انتظامات پر نظرِ ثانی کے لیے ایران کے ساتھ شیب سرحدی راستے کو تمام مسافروں، گاڑیوں اور تجارتی ٹرکوں کی آمدورفت کے لیے غیر معینہ مدت تک بند کر دیا۔

عراقی حکومت نے ایران سے متصل شیب بارڈر کراسنگ کو تمام مسافروں، عام گاڑیوں اور تجارتی ٹرکوں کے لیے اگلے حکم تک بند کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔

عراقی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ سرحدی راستے کے اندر سیکیورٹی انتظامات پر دوبارہ غور اور نظرِ ثانی کے لیے کیا گیا ہے۔

حکومتی ذرائع نے اشارہ دیا ہے کہ ان احکامات کی کوئی خاص وجہ نہیں بتائی گئی، تاہم آنے والے دنوں میں ایران کے ساتھ دیگر کئی سرحدی راستوں کو بھی مرحلہ وار بند کیا جا سکتا ہے۔

اس پیش رفت پر ایرانی حکام نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایران کے وزارتِ داخلہ کے ترجمان علی زینی وند نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ معاہدے کے تحت بغداد کا یہ فرض ہے کہ اگر وہ کئی دنوں کے لیے سرحدی راستہ بند کرتا ہے تو تہران کو پہلے سے مطلع کرے۔