تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

پاکستان ایٹمی طاقت اور اہم ملک ہے، اس کے ساتھ تعلقات ضروری ہیں، مارکو روبیو

پاکستان

امریکی وزیرِ خارجہ نے پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایٹمی ملک پاکستان سے امریکہ کو لازمی تعلقات قائم رکھنے ہیں، کیونکہ وہ جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہم جگہ پر واقع ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایک بھارتی میڈیا نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان کے ساتھ واشنگٹن کے تعلقات کی اہمیت کا واضح الفاظ میں دفاع کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر ملک کے ساتھ یکساں نظریات ہونا ضروری نہیں، بلکہ کچھ اختلافات کے باوجود ریاستوں سے رابطے قائم رکھنا عالمی سفارت کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا ملک ہے، جس کے ساتھ امریکہ کو لازمی تعلقات قائم رکھنے ہیں، کیونکہ وہ ایک ایٹمی صلاحیت رکھنے والی ریاست ہے اور جغرافیائی لحاظ سے بھی انتہائی اہم جگہ پر واقع ہے۔

مارکو روبیو نے بھارتی حکومت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جیسے بھارت کو ایران سے تعلقات رکھنے کی ضرورت ہے وہ  ایرانی رہنماؤں سے ملاقات بھی کرتی ہے، اسی طرح امریکا کو پاکستان سے تعلقات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر واشنگٹن کے اسلام آباد سے اچھے اور براہِ راست رابطے ہوں گے تو امریکہ ایسی پوزیشن میں ہو گا کہ وہ ان خدشات اور خدشات کو دور کر سکے جن پر بھارت کو تشویش رہتی ہے۔