لندن (جی ٹی وی نیوز اردو) — 21 اکتوبر 2026: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے رواں ماہ ایران کے خلاف ایک بڑی فوجی کارروائی کی تیاری کروائی تھی، جس کے تحت ایرانی جوہری تنصیبات، بجلی گھروں اور دیگر اہم مراکز پر کئی روز تک شدید فضائی حملے کیے جانے تھے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت کے باعث منصوبہ روک دیا گیا۔
یہ انکشاف برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے اپنی خصوصی تحقیقاتی رپورٹ میں تین ایسے افراد کے حوالے سے کیا ہے جو اسرائیلی منصوبہ بندی سے واقف تھے۔
اخبار کے مطابق اسرائیلی فوج نے 10 اکتوبر کے اختتام ہفتہ پر ایران کے خلاف وسیع فضائی کارروائی کی تیاری کی تھی۔ مجوزہ حملوں میں ایران کی جوہری تنصیبات کے علاوہ بجلی پیدا کرنے والے مراکز، شہری بنیادی ڈھانچے اور حکومتی اہداف کو نشانہ بنایا جانا تھا۔
فروری کی جنگ سے بھی زیادہ شدید بمباری کا منصوبہ
فنانشل ٹائمز کے مطابق اسرائیل کی مجوزہ کارروائی رواں سال فروری میں ایران کے خلاف شروع ہونے والی مشترکہ امریکی و اسرائیلی فوجی مہم سے بھی زیادہ شدید ہونے کا امکان تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیلی فوج کو نئے حملوں کی تیاری کا حکم دیا گیا اور کئی روز تک جاری رہنے والی بمباری کے لیے اہداف کا تعین کیا گیا۔
اسرائیلی حکام نے نئی خفیہ معلومات کی بنیاد پر ایران میں ممکنہ اہداف کی تازہ فہرست بھی تیار کی، جس میں ایسی شہری تنصیبات شامل تھیں جنہیں رواں سال کے پہلے حملوں میں نشانہ نہیں بنایا گیا تھا۔
ٹرمپ نے اسرائیل کو کیوں روکا؟
فنانشل ٹائمز نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ دوبارہ بھرپور جنگ شروع کرنے کے مخالف تھے۔
اسی مخالفت کے باعث 10 اکتوبر کے لیے تیار کیا گیا اسرائیلی منصوبہ عملی شکل اختیار نہیں کرسکا۔
اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی نائب ترجمان اینا کیلی نے واضح کیا کہ امریکا وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران معاشی اور فوجی لحاظ سے انتہائی کمزور حالت میں ہے، جبکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیجی تیل کی برآمدات بحال رکھنے کے امریکی اقدامات کامیاب ہورہے ہیں۔
کیا امریکا بھی حملے میں شریک ہونے والا تھا؟
فنانشل ٹائمز کے مطابق یہ واضح نہیں ہوسکا کہ مجوزہ اسرائیلی کارروائی میں امریکی فوج کو براہِ راست حصہ لینا تھا یا نہیں۔
تاہم منصوبے سے واقف ایک شخص نے اخبار کو بتایا کہ آنے والے ہفتوں میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دوبارہ مشترکہ حملوں کا امکان خارج از امکان نہیں۔
اس ذریعے کے مطابق ایران کے معاملے میں دو ممکنہ راستے موجود ہیں، یا تو کوئی معاہدہ ہوگا یا فوجی حملہ۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی کوششوں کا مقصد ایران کو آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام سے متعلق ایسے معاہدے پر آمادہ کرنا ہے جس سے جنگ کا مکمل خاتمہ ہوسکے۔
امریکی وزیر دفاع کا دورۂ اسرائیل اور نئے اہداف کی فہرست
فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پیر کو اسرائیل کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے نیتن یاہو اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔
رپورٹ میں ایک باخبر شخص کے حوالے سے بتایا گیا کہ اسرائیلی حکام نے ایران میں ممکنہ حملوں کے لیے اہداف کی تازہ فہرست امریکی حکام کے سامنے پیش کی۔
اس فہرست میں نئی خفیہ معلومات سے شناخت کی گئی تنصیبات بھی شامل تھیں۔
اخبار کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے اس معاملے پر فوری طور پر تبصرہ نہیں کیا۔
کیا اسرائیلی تیاریوں کا مقصد ایران پر دباؤ ڈالنا تھا؟
فنانشل ٹائمز سے گفتگو کرنے والے ایک اور شخص نے یہ امکان ظاہر کیا کہ اسرائیل کی مجوزہ فوجی کارروائی مذاکرات کے دوران ایران پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ بھی ہوسکتی تھی۔
اس ذریعے کے مطابق ایران کے خلاف نئی کارروائی کا حتمی فیصلہ امریکی صدر کے ہاتھ میں تھا۔
اس کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم ایران پر بڑے حملے دوبارہ شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
نیتن یاہو اور ٹرمپ کی فون پر گفتگو بھی رپورٹ کا حصہ
فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں نیتن یاہو کی جانب سے پیر کو جاری کی گئی اس ویڈیو کا بھی ذکر کیا ہے جس میں وہ ایک اسرائیلی فضائی اڈے پر جنگی طیارے کے سامنے بیٹھ کر ٹرمپ سے فون پر گفتگو کررہے ہیں۔
نیتن یاہو نے امریکی صدر سے کہا کہ دونوں کے درمیان ایک کام مکمل کرنے کی بات ہوئی تھی اور وہ اسے مل کر مکمل کریں گے۔
اس پر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو عظیم جنگجو قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بہت جلد یہ ثابت کریں گے اور نیتن یاہو وہ شخص ہیں جسے وہ اپنے ساتھ چاہتے ہیں۔
فنانشل ٹائمز نے اس گفتگو کو دونوں رہنماؤں کی جانب سے ایران کے خلاف مزید کارروائی کی دھمکیوں کے تناظر میں رپورٹ کیا ہے۔
اسرائیلی انتخابات سے پہلے فوجی چھٹیاں منسوخ
فنانشل ٹائمز کے مطابق اسرائیلی فوج گزشتہ کئی ہفتوں سے غیر معمولی چوکس حالت میں ہے۔
اسرائیلی فوج نے 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے دوران سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے فوجیوں کی چھٹیاں بھی منسوخ کردی ہیں۔
اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال ضمیر کے مطابق یہ اقدام انتخابات کو محفوظ اور مقررہ وقت پر منعقد کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
اخبار نے موجودہ اور سابق اسرائیلی سکیورٹی حکام کے خدشات بھی بیان کیے ہیں کہ انتخابات کے اتنے قریب نئی جنگ شروع کرنے سے اسرائیل کا جمہوری عمل شدید متاثر ہوسکتا ہے۔
انتخابات میں شکست کے باوجود نیتن یاہو جنگ شروع کرسکتے ہیں؟
فنانشل ٹائمز کے مطابق اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے کئی ہفتے درکار ہوسکتے ہیں۔
اس دوران نیتن یاہو عبوری وزیراعظم کی حیثیت سے برقرار رہ سکتے ہیں، حتیٰ کہ انتخابی شکست کی صورت میں بھی ان کے پاس بعض قانونی اختیارات موجود ہوں گے۔
تاہم اخبار کے مطابق ایسی عبوری صورتحال میں ایران کے خلاف مکمل جنگ شروع کرنا اسرائیلی تاریخ میں غیر معمولی اقدام ہوگا۔
یہ بھی واضح نہیں کہ اسرائیلی فوج اور سکیورٹی اداروں کی موجودہ قیادت ایسے کسی حکم پر کیا ردعمل دے گی۔
کیا ایران پر حملے کا خطرہ اب بھی موجود ہے؟
فنانشل ٹائمز کے مطابق اکتوبر کے آغاز میں تیار کیا گیا منصوبہ روک دیا گیا، لیکن اسرائیلی وزیراعظم ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے خواہش مند ہیں۔
رپورٹ میں شامل ذرائع نے مستقبل میں نئی کارروائی کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔
اخبار کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے متعدد درخواستوں کے باوجود تبصرہ نہیں کیا۔
فنانشل ٹائمز کی تحقیقاتی رپورٹ کا مرکزی انکشاف یہ ہے کہ ایران کے خلاف کئی روز تک شدید بمباری کا اسرائیلی منصوبہ تیار تھا، مگر امریکی صدر کی مخالفت نے اسے روک دیا۔ تاہم آنے والے ہفتوں میں نئی فوجی کارروائی کا امکان مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔






