واشنگٹن (جی ٹی وی نیوز اردو) — 22 اکتوبر 2026: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب دنیا کے بڑے سمندروں میں سے ایک کو اپنے نام سے منسوب کرنے کی خواہش ظاہر کرکے نئی بحث چھیڑ دی ہے، لیکن ان کے اپنے بقول گوگل کے سربراہ سندر پچائی نے اس معاملے میں امریکی صدر کی خواہش پوری کرنے سے معذرت کرلی۔
جنوبی کیرولائنا میں ری پبلکن جماعت کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے گوگل میپس پر بحرِ اوقیانوس کا نام بدل کر ’’ٹرمپ اوشن‘‘ رکھنے کا خیال پیش کیا تھا۔
ٹرمپ نے حاضرین کو بتایا کہ انہوں نے گوگل کے چیف ایگزیکٹو سندر پچائی سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ کیا بحرِ اوقیانوس کا نام تبدیل کیا جاسکتا ہے؟
Trump: I called Google Maps to change the name of the Atlantic Ocean to Trump Ocean. Sundar said, “No, no, no. This time I’m not doing it.” He said, “Oceans are different, sir. They cover a lot of countries. Please don’t ask us to do that.”
https://t.co/mfK2ugKs38
— The_Real_Fly (@The_Real_Fly) October 22, 2026
’’سر! اس مرتبہ مجھ سے یہ کام نہ کروائیں‘‘
ٹرمپ کے مطابق ان کی درخواست سن کر سندر پچائی نے جواب دیا:
’’نہیں، نہیں، نہیں! اس مرتبہ میں یہ کام نہیں کررہا۔‘‘
امریکی صدر نے مزید بتایا کہ سندر پچائی نے انہیں سمجھایا کہ سمندروں کا معاملہ دوسرے جغرافیائی مقامات سے مختلف ہے۔
ٹرمپ کے بقول گوگل کے سربراہ نے کہا کہ سمندر کئی ممالک سے جڑے ہوتے ہیں، اس لیے ان کا نام تبدیل کرنا اتنا آسان نہیں۔
ٹرمپ نے مزاحیہ انداز میں یہ گفتگو سناتے ہوئے کہا کہ شاید وہ اب اس خیال کو ترک کردیں گے اور بحرِ اوقیانوس کا موجودہ نام ہی برقرار رہنے دیں گے۔
خلیج کے بعد اب پورے سمندر پر نظر!
ٹرمپ کی یہ خواہش ان کے جغرافیائی مقامات کے نام تبدیل کرنے کے سابقہ اقدامات کے بعد سامنے آئی ہے۔
امریکی صدر نے اپنی دوسری صدارتی مدت میں خلیج میکسیکو کا نام امریکی سرکاری استعمال کے لیے ’’خلیج امریکا‘‘ رکھنے کا حکم دیا تھا۔
گوگل میپس نے بھی امریکی صارفین کے لیے سرکاری نام کی تبدیلی کی عکاسی کی تھی، جبکہ مختلف ممالک میں نقشے پر نام دکھانے کا طریقہ مختلف رہا۔
اس کے بعد ٹرمپ نے دیگر جھیلوں، سمندری راستوں اور سمندروں کے ناموں میں تبدیلی کے خیالات بھی پیش کیے۔
’’ٹرمپ اوشن‘‘ یا ’’امریکی سمندر‘‘؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے اس سے پہلے بھی بحرِ اوقیانوس اور بحرالکاہل کو اپنے نام یا امریکا کے نام سے منسوب کرنے کا خیال پیش کیا تھا۔
16 اکتوبر کو جارجیا میں ایک جلسے کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ وہ گوگل سے پوچھ چکے ہیں کہ بحرِ اوقیانوس یا بحرالکاہل کو ’’ٹرمپ اوشن‘‘ بنانے کے بارے میں اس کی کیا رائے ہے۔
اس موقع پر انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ گوگل کے حکام نے انہیں بتایا کہ سمندر بہت سے ممالک سے جڑے ہوتے ہیں، اس لیے ان کے نام تبدیل کرنا ممکن نہیں۔
ٹرمپ نے اس گفتگو میں یہ بھی کہا تھا کہ وہ مذاق کررہے تھے، اگرچہ انہیں یہ خیال مکمل طور پر برا نہیں لگتا۔
کیا گوگل واقعی سمندر کا نام بدل سکتا ہے؟
گوگل میپس دنیا بھر میں نقشے اور جغرافیائی نام دکھانے والی ایک بڑی ڈیجیٹل خدمت ہے، لیکن گوگل خود کسی بین الاقوامی سمندر کا سرکاری نام تبدیل کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔
کمپنی مختلف ممالک کے سرکاری جغرافیائی ناموں، مقامی قوانین اور متعلقہ اداروں کے فیصلوں کو مدنظر رکھ کر نقشوں پر نام ظاہر کرتی ہے۔
بحرِ اوقیانوس دنیا کے متعدد ممالک اور براعظموں سے منسلک ہے، اس لیے کسی ایک ملک کی خواہش یا کسی ڈیجیٹل نقشے میں تبدیلی سے اس کا نام عالمی سطح پر تبدیل نہیں ہوجاتا۔
یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کے اپنے بیان کے مطابق سندر پچائی نے بھی سمندروں کی بین الاقوامی نوعیت کا حوالہ دیا۔
گوگل نے ٹرمپ کی گفتگو کی تصدیق کی؟
یہاں ایک اہم بات یہ ہے کہ سندر پچائی کے ساتھ ہونے والی گفتگو کی تفصیلات خود ٹرمپ نے بیان کی ہیں۔
گوگل یا سندر پچائی کی جانب سے اس مخصوص گفتگو کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
لہٰذا یہ کہنا درست ہوگا کہ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ سندر پچائی نے ان کی درخواست مسترد کردی، نہ کہ دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کی ہر تفصیل آزادانہ طور پر ثابت ہوچکی ہے۔
انتخابی جلسے میں دلچسپ موضوع کیسے آگیا؟
ٹرمپ نے یہ گفتگو 21 اکتوبر کو جنوبی کیرولائنا میں ری پبلکن امیدوار کی حمایت میں منعقدہ انتخابی جلسے کے دوران کی۔
امریکا میں 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں اور ٹرمپ اپنی جماعت کے امیدواروں کے حق میں مختلف ریاستوں میں جلسوں سے خطاب کررہے ہیں۔
انتخابی تقریر کے دوران سمندروں کے نام تبدیل کرنے کا قصہ ان کی گفتگو کے نمایاں اور غیر معمولی موضوعات میں شامل رہا۔
آخرکار بحرِ اوقیانوس کا نام کیا ہوگا؟
ٹرمپ نے جلسے میں اشارہ دیا کہ وہ اس مرتبہ نام کی تبدیلی کا خیال چھوڑ سکتے ہیں۔
تاہم ان کے اس دلچسپ بیان نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال پیدا کردیا ہے کہ امریکی صدر جغرافیائی مقامات کے نام بدلنے میں اتنی دلچسپی کیوں رکھتے ہیں۔
فی الحال بحرِ اوقیانوس کا نام تبدیل نہیں ہوا، گوگل میپس پر اسے ’’ٹرمپ اوشن‘‘ بنانے کا کوئی مصدقہ فیصلہ سامنے نہیں آیا، اور ٹرمپ کے اپنے بقول بھی یہ خواہش شاید خواہش ہی رہے گی.






