امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ایران امریکہ کو افراتفری میں دھکیل سکتا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ایران کو عسکری اور مالی طور پر شکست دے دی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میرے خیال میں اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے تو ہم بارود کے ڈھیر پر ہوتے۔ ہماری زندگیاں بہت مختلف ہوتیں کیونکہ وہ پاگل ہیں۔ لیکن وہ میرے ساتھ کھیل نہیں کھیلتے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ایران امریکہ کو افراتفری میں دھکیل سکتا ہے۔ وہ ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کے ایک گھنٹے کے اندر اسے استعمال کردیں گے۔
امریکی صدر نے ایرانی حکومت کو دنیا کے سب سے بڑے خطرات میں سے ایک کے طور پر پیش کیا اور الزام لگایا کہ ایران دہشت گردی کی سرپرستی کرتا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ اپنی جنگ اب ختم کر سکتا ہے لیکن وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ اس کا نتیجہ پائیدار ہو۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر آبنائے ٹرمپ کہا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے باراک حسین اوباما کی ایران نیوکلیئر ڈیل کو ختم کر کیا، جو ایران کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کا راستہ تھا۔ ہم نے آپریشن مڈنائٹ ہیمر کے دوران ایران کی جوہری افزودگی کی صلاحیت کو مٹا دیا، جو کہ ایک خوبصورت آپریشن تھا، اور آپریشن ایپک فیوری میں ہم نے انہیں عسکری، مالی اور دوسری طرح سے شکست دی۔ امریکہ نے ایران کو تہس نہس کر دیا ہے۔ روس اور چین بڑی حد تک سائیڈ پر رہے۔ روس کا ایران میں بہت کم ان پٹ رہا ہے۔
ٹرمپ نے ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے امریکی کوششوں کی بھی تعریف کی اور انہیں اپنی انتظامیہ کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کو کرنے میں بہت زیادہ ہمت کی ضرورت تھی کیونکہ کوئی دوسرا صدر ایسا کرنے کو تیار نہیں تھا۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا ہوتا تو ایران اب تک بڑے پیمانے پر ایٹمی ہتھیار استعمال کر چکا ہوتا۔






