تازہ ترین
عالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!عالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!
دنیا

ایران کی حکومت گرانے کا نیتن یاہو کا اعلان، کیا اسرائیل واقعی تہران پر قبضہ کرسکتا ہے؟ الجزیرہ کی رپورٹ میں اہم انکشافات

دوحہ (جی ٹی وی نیوز اردو) — 22 اکتوبر 2026: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کی موجودہ حکومت کا خاتمہ اپنی اولین ترجیح قرار دے دیا ہے، تاہم بین الاقوامی دفاعی ماہرین نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا اسرائیل کے پاس واقعی تہران کی حکومت گرانے کی صلاحیت اور اس مقصد کو حاصل کرنے کی کوئی عملی حکمت عملی موجود ہے؟

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ نے اپنی خصوصی تجزیاتی رپورٹ میں اسرائیل کی فوجی طاقت، ایران کی دفاعی صلاحیتوں، امریکا کے ممکنہ کردار اور حکومت کی تبدیلی سے متعلق پیچیدگیوں کا جائزہ لیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے ایران کی حکومت کا خاتمہ اسرائیل کا بنیادی مقصد قرار دیا ہے۔ ان کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب اسرائیل میں 27 اکتوبر کو پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں اور انہیں عوامی حمایت میں کمی کا سامنا ہے۔

ایران کی حکومت گرانا اسرائیل کا بنیادی مقصد

الجزیرہ کے مطابق نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ ایران کی موجودہ حکومت کا خاتمہ ان کی پالیسی کا مرکزی ہدف ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم کے بیانات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے گفتگو اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے اسرائیل کے دورے کے بعد سامنے آئے ہیں۔

تاہم الجزیرہ نے نشاندہی کی ہے کہ نیتن یاہو نے ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جس سے ظاہر ہو کہ واشنگٹن ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی یا وہاں حکومت تبدیل کرنے کی مہم میں شرکت پر رضامند ہوچکا ہے۔

اس صورتحال نے اسرائیل کے عزائم اور ان کی عملی تکمیل کے درمیان موجود فاصلے کو نمایاں کردیا ہے۔

کیا اسرائیل ایران کو شدید فوجی نقصان پہنچا سکتا ہے؟

الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے برطانوی دفاعی تحقیقی ادارے رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے محقق اربن کوننگھم نے کہا کہ اسرائیل کے پاس ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں کرنے کی قابلِ ذکر صلاحیت موجود ہے۔

ان کے مطابق اسرائیل کے فضائی ہتھیاروں کے ذخائر اور دورانِ پرواز طیاروں میں ایندھن بھرنے کی صلاحیت اسے اہم فوجی برتری فراہم کرتی ہے۔

اسرائیلی فضائیہ دوبارہ ایرانی فضائی حدود میں برتری حاصل کرکے مختلف اہداف کو نشانہ بنا سکتی ہے۔

تاہم ماہرین کے مطابق فوجی تنصیبات کو تباہ کرنا اور کسی ملک کی حکومت گرانا دو بالکل مختلف اہداف ہیں۔

صرف بمباری سے حکومت کیوں نہیں گرسکتی؟

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق فضائی حملے ایران کی فوجی صلاحیتوں، دفاعی مراکز اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، لیکن ان حملوں سے حکومت کا خاتمہ یقینی نہیں بنایا جاسکتا۔

کسی ملک میں حکومت کی تبدیلی کے لیے صرف عسکری طاقت کافی نہیں ہوتی۔

اس مقصد کے لیے داخلی سیاسی حالات، ریاستی اداروں کی وفاداری، عوامی ردعمل اور کسی متبادل سیاسی نظام کی موجودگی جیسے عوامل بھی اہم ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے پاس ایسی واضح حکمت عملی دکھائی نہیں دیتی جو فضائی حملوں سے حاصل ہونے والی فوجی کامیابیوں کو ایران میں حکومت کی تبدیلی میں بدل سکے۔

کیا اسرائیل زمینی حملہ کرسکتا ہے؟

رپورٹ میں اس امکان کا بھی جائزہ لیا گیا ہے کہ اگر فضائی حملے حکومت گرانے میں ناکام رہیں تو کیا اسرائیل زمینی فوجی کارروائی کرسکتا ہے؟

دفاعی ماہرین کے مطابق ایران جیسے بڑے ملک کے خلاف زمینی حملہ کہیں زیادہ وسیع فوجی وسائل اور طویل المدت انتظامات کا تقاضا کرے گا۔

ایران کا جغرافیہ، آبادی اور فوجی ڈھانچہ کسی بھی بیرونی طاقت کے لیے ایسی کارروائی کو انتہائی پیچیدہ بناتے ہیں۔

اس لیے اسرائیل کی فضائی برتری کو ایران میں حکومت تبدیل کرنے کی صلاحیت کے برابر نہیں سمجھا جاسکتا۔

ایران پہلے بھی دو فوجی حملوں کا سامنا کرچکا ہے

الجزیرہ کے مطابق ایران اس سے پہلے بھی دو بڑی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنے کے باوجود اپنا حکومتی نظام برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔

یہ حقیقت اسرائیلی منصوبہ سازوں کے لیے ایک اہم چیلنج ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی اسرائیل اور خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کی میزبانی کرنے والے خلیجی ممالک کے خلاف جوابی کارروائی کی صلاحیت موجود ہے۔

اس لیے ایران کے خلاف کسی نئی جنگ کے اثرات صرف اسرائیل اور ایران تک محدود رہنے کی ضمانت نہیں۔

خلیجی ممالک بھی جنگ کی لپیٹ میں آسکتے ہیں

الجزیرہ کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی خطے میں مزید کشیدگی پیدا کرسکتی ہے۔

ایران کی ممکنہ جوابی کارروائیوں سے ان خلیجی ممالک کو بھی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں جہاں امریکی فوجی اثاثے موجود ہیں۔

اس طرح ایران میں حکومت تبدیل کرنے کی کوشش ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے کا خطرہ پیدا کرسکتی ہے۔

اس کے اثرات فضائی سفر، توانائی کی ترسیل اور علاقائی سلامتی پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔

کیا ٹرمپ نیتن یاہو کا ساتھ دیں گے؟

رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے لیے ایک بنیادی سوال امریکا کی ممکنہ حمایت کا ہے۔

اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان قریبی سیاسی اور دفاعی تعلقات موجود ہیں، لیکن واشنگٹن کی جانب سے ایران میں حکومت تبدیل کرنے کی کسی نئی فوجی مہم میں شرکت کا واضح وعدہ سامنے نہیں آیا۔

ماہرین کے مطابق امریکا کے لیے نئی جنگ شروع کرنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران کو امریکی مطالبات کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوئی قابلِ اعتماد حکمت عملی واضح نہیں۔

اس لیے اسرائیل کی خواہش اور امریکا کی عملی پالیسی میں فرق برقرار رہ سکتا ہے۔

اسرائیلی انتخابات سے پہلے ایران کا معاملہ کیوں گرم ہے؟

الجزیرہ کے مطابق نیتن یاہو کو اسرائیل کے آئندہ انتخابات سے پہلے عوامی حمایت میں کمی کا سامنا ہے۔

ایران کے خلاف سخت مؤقف ان کی انتخابی سیاست کا ایک اہم حصہ بن گیا ہے۔

تاہم یہ سوال برقرار ہے کہ آیا ایران میں حکومت کی تبدیلی کا وعدہ قابلِ عمل فوجی منصوبہ ہے یا ایسا سیاسی ہدف جسے حاصل کرنے کا راستہ ابھی واضح نہیں۔

ایران میں حکومت کی تبدیلی، حقیقت یا ناممکن ہدف؟

الجزیرہ کی رپورٹ کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اسرائیل کی فوجی طاقت اور ایران میں حکومت کی تبدیلی کے امکانات کو ایک ہی چیز نہیں سمجھنا چاہیے۔

اسرائیل کے پاس ایران کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کی صلاحیت ہوسکتی ہے، لیکن اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ مسلسل بمباری سے تہران کا حکومتی نظام ختم ہوجائے گا۔

اس کے برعکس نئی کارروائی ایران کی جوابی مزاحمت اور خطے میں وسیع فوجی تصادم کا سبب بن سکتی ہے۔

نیتن یاہو ایران کی حکومت گرانے کا وعدہ کررہے ہیں، لیکن الجزیرہ کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ اسرائیل فوجی طاقت کو سیاسی کامیابی میں کیسے تبدیل کرے گا، اور کیا امریکا اس خطرناک مہم میں اس کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہوگا؟