تازہ ترین
عالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!عالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!
دنیا

آبنائے ہرمز میں سات تیل بردار جہازوں پر حملے، ایران کی امریکہ کو سخت وارننگ

سات تیل بردار

آبنائے ہرمز میں سات تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سے چار اس وقت نشانہ بنے، جب وہ تیل منتقل کر رہے تھے اور آگ کی زد میں آ گئے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں سات تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے انہیں نقصان پہنچا۔ یہ ایک ہی دن میں اس آبی گزرگاہ پر ہونے والا سب سے بڑا نقصان ہے۔

پاسداران انقلاب کے بیان کے مطابق چار جہازوں پر اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ تیل کی منتقلی کر رہے تھے، جس کے بعد ان میں آگ لگ گئی، جبکہ باقی تین جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر ناکارہ ہو گئے۔

پاسداران انقلاب کا کہنا تھا کہ کہ اگر واشنگٹن نے آبنائے کے دوسرے حصوں میں تیل بردار جہازوں کی گزرگاہ میں مدد کی تو وہ مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو تنازع خطے میں اس کے اڈوں تک پھیل جائے گا اور یہ ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔