تازہ ترین
عالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!عالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!
دنیا

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی امریکی صدر کے خصوصی نمائندے اسٹیون وٹکوف سے ملاقات کے بعد روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف کا بیان

روس اور امریکا کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطوں میں یوکرین جنگ کے خاتمے اور دیرپا امن کے لیے مذاکرات کی بحالی پر پیش رفت ہوئی ہے، جبکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے 10 سے 19 نومبر کے درمیان روس، امریکا اور یوکرین کے نمائندوں کے سہ فریقی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ مجوزہ مذاکرات میں جنگ کے خاتمے کے بعد روس اور یوکرین کے لیے سلامتی کے انتظامات کو مرکزی اہمیت دی جائے گی۔

روسی حکام کے بیان کے مطابق، 9 اکتوبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پیوٹن کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو کے تسلسل میں باہمی طور پر قابل قبول حل تلاش کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ روسی صدر نے مذاکراتی عمل میں ٹرمپ انتظامیہ اور ان کے خصوصی نمائندوں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے سفارتی رابطوں کو اہم قرار دیا۔

بات چیت کے دوران سہ فریقی مذاکرات کی سابقہ کوششوں اور ان کی بحالی میں حائل رکاوٹوں کا جائزہ بھی لیا گیا۔ روسی مؤقف کے مطابق، یوکرینی حکومت نے ریاستی دوما کے انتخابات کے فوراً بعد مذاکرات کی مجوزہ بحالی کو متاثر کیا تھا۔ روسی بیان میں ماسکو اور دیگر شہروں میں حملوں، پولنگ مراکز اور انتخابی عملے کو نشانہ بنائے جانے اور بعض اہلکاروں کی ہلاکت کا بھی ذکر کیا گیا۔ ان واقعات سے متعلق تفصیلات روسی مؤقف کے طور پر سامنے آئی ہیں۔

روسی حکام کے مطابق، امریکی جانب سے ملنے والے اشاروں کا جائزہ لینے کے بعد پیوٹن نے امریکی خصوصی نمائندے اسٹیون وٹکوف کو آگاہ کیا کہ ماسکو اصولی طور پر 10 سے 19 نومبر کے دوران مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس پیش رفت کا عملی نتیجہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ تینوں فریق مجوزہ مذاکرات میں شرکت اور سلامتی کے معاملات پر بات چیت کے لیے کس حد تک اتفاق کرتے ہیں۔

ملاقات میں انسانی ہمدردی کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔ پیوٹن نے وٹکوف سے درخواست کی کہ امریکی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ تک ان کا شکریہ پہنچایا جائے، خصوصاً بچوں کو ان کے اہلِ خانہ سے دوبارہ ملانے کی کوششوں پر۔ روسی صدر نے روس کے زیر انتظام علاقے خیرسون کے قصبے الیوشکی میں سنگین انسانی صورت حال کے حل کے لیے ان کی ثالثی کی کوششوں کو بھی سراہا۔

گفتگو میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال، بالخصوص ایران سے متعلق پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ روس نے ایران کے معاملے کے سیاسی اور سفارتی حل کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا، جس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارت کاری کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے۔

بات چیت کا ایک اور اہم موضوع نومبر میں چین کے شہر شینزن میں ایشیا بحرالکاہل اقتصادی تعاون (ایپیک) سربراہی اجلاس کے موقع پر روس، چین اور امریکا کے سربراہان کی ممکنہ سہ فریقی ملاقات تھا۔ روسی بیان کے مطابق، ماسکو، واشنگٹن اور بیجنگ میں سے کسی نے بھی اس تجویز کو مسترد نہیں کیا اور چین میں اس حوالے سے تیاریاں جاری ہیں۔ تاہم ملاقات کا حتمی انعقاد ابھی حالات اور متعلقہ فریقوں کے فیصلوں سے مشروط ہے، جبکہ مجوزہ اجلاس کے لیے متعدد عملی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔