تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

افغانستان سے دہشت گردی کے خدشات، روس اور ازبکستان نے مشترکہ عسکری مشقیں شروع کردیں

روس اور ازبکستان

افغانستان سے دہشت گردی اور سرحد پار دراندازی کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر روس اور ازبکستان نے افغان سرحد کے قریب مشترکہ عسکری مشقیں شروع کر دیں۔

افغانستان سے دراندازی اور دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر وسطی ایشیا میں سرحدی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے عسکری اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

ازبک جریدے دی تاشکند ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق روس اور ازبکستان نے افغان سرحد کے قریب مشترکہ عسکری قدم اٹھاتے ہوئے سرحدی شہر ترمذ میں عسکری مشقیں کوآپریشن 2026 کا آغاز کر دیا ہے۔

20 سے 27 اکتوبر 2026 تک جاری رہنے والی ان مشقوں میں دونوں ممالک کے فوجی دستے، جنگی ڈرونز اور ہیلی کاپٹر حصہ لے رہے ہیں۔

ان فوجی مشقوں کا بنیادی مقصد افغانستان سے دہشت گردوں کی سرحد پار دراندازی کو روکنا اور سرحدی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

رپورٹ کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف بھی افغانستان سے جنم لینے والے دہشت گردی کے خطرات پر حال ہی میں خبردار کر چکے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ تاجکستان اور ازبکستان سے ملحقہ افغان علاقوں میں دہشت گردوں کے بڑے تربیتی کیمپ موجود ہیں، جن سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔