جرمن وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران اور حوثی ملیشیا کی جانب سے عالمی تجارت کو یرغمال بنانے کا عمل کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا، اس کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل ناگزیر ہے۔
جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈیپول نے استنبول میں سات ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات سے قبل اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان محاذ آرائی، یمن کے تنازع اور بحیرہ اسود میں غلہ لے جانے والے بحری جہازوں پر روسی حملوں کا حل صرف قریبی عالمی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی تجارتی راستوں کی حفاظت کے لیے فوری طور پر مشترکہ اقدامات کیے جائیں۔
واڈیپول کا کہنا تھا کہ بحری راستوں پر ہونے والے حملوں کے اثرات سے ہم سب متاثر ہو رہے ہیں، چاہے وہ پیٹرول پمپ پر ہوں یا سپر مارکیٹ میں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ کھاد کی ترسیل میں تاخیر کی وجہ سے دنیا کے کئی حصوں میں قحط جیسی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم یہ قطعی برداشت نہیں کریں گے کہ ایران اور حوثی ملیشیا عالمی تجارت کو یرغمال بنائیں اور دنیا کی توانائی اور کھاد کی سپلائی کو مسلسل دباؤ میں رکھیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بحری جہازوں اور پڑوسی ملکوں پر اندھا دھند حملے فوری طور پر بند ہونے چاہئیں۔






