مقبوضہ مغربی کنارے میں فائرنگ کے واقعے میں 6 اسرائیلی فوجی زخمی ہو گئے جبکہ جوابی کارروائی میں 2 فلسطینی شہید ہو گئے، جس کے بعد پورے علاقے میں سخت لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق الخلیل کے قریب واقع ایک فوجی چوکی پر اسرائیلی نمبر پلیٹ والی کار میں سوار افراد نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 6 اسرائیلی فوجی زخمی ہو گئے، جن میں سے 2 کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کا یہ سلسلہ 20 منٹ تک جاری رہا، جس کی وجہ سے زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائی کے دوران 2 مشتبہ فلسطینی نوجوانوں کو شہید کر دیا گیا۔
اس واقعے کے بعد اسرائیلی فوج نے الخلیل کے گورنریٹ کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے، تمام فوجی چوکیاں سیل کر دی گئی ہیں اور شہریوں کی آمد و رفت روکنے کے لیے داخلی و خارجی راستوں پر لوہے کے دروازے لگا دیئے گئے ہیں۔
تارود قیدی کیمپ میں گھروں پر چھاپے مار کر دو فلسطینیوں کو حراست میں بھی لے لیا گیا ہے۔ دوسری جانب حماس، فلسطینی اسلامک جہاد اور پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین نے اس حملے کو سراہتے ہوئے اسے اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور غاصبانہ پالیسیوں کا منہ توڑ جواب قرار دیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اتوار کے تمام انتخابی پروگرام منسوخ کرتے ہوئے مغربی کنارے کی سخت ناکہ بندی کا حکم دے دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو انتخابات سے قبل سیاسی فائدے کے لیے کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں۔






