تازہ ترین
عالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!عالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!
دنیا

توانائی اب ایک جیو پولیٹیکل ہتھیار بن چکی ہے، سربراہ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی

جیو پولیٹیکل ہتھیار

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ توانائی اب ایک جغرافیائی سیاسی ہتھیار بنتی جا رہی ہے، جس سے یورپ کو اس موسم سرما میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (ای آئی اے) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر فاتح بیرول نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں توانائی اب محض ایک معاشی شے نہیں بلکہ ایک جیو پولیٹیکل ہتھیار کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یورپ کو اس موسم سرما میں گیس کی بلند قیمتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور انہوں نے حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ توانائی کی سپلائی کو متنوع بنانے میں ناکام رہی ہیں۔

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ حالات موجودہ صورتحال سے بہتر ہوں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی برقرار نہیں رہتی تو وہ جنگ شروع ہونے سے پہلے والی پوزیشن پر واپس جانے کا کوئی بھی قابل اعتبار راستہ نہیں دیکھتے۔