تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

اسرائیل کو ایرانی میزائلوں سے بچانے پر امریکا کے 11 ارب ڈالر خرچ، 609 میزائل داغنے کا انکشاف

اسرائیل

امریکی دفاعی اخراجات کے محقق اسٹیفن سیملر کی نئی رپورٹ، اسرائیل کے دفاع میں جدید ترین امریکی میزائل شکن نظام استعمال، 2025 اور 2026 کی جنگوں میں سب سے زیادہ اخراجات

 اسرائیل کو ایران اور خطے کے دیگر مقامات سے کیے جانے والے میزائل حملوں سے بچانے کے لیے امریکا نے گزشتہ تین برسوں کے دوران کم از کم 609 میزائل شکن ہتھیار استعمال کیے، جن کی مجموعی تخمینی لاگت تقریباً 11 ارب ڈالر بنتی ہے۔

یہ انکشاف امریکی دفاعی اخراجات کے محقق اسٹیفن سیملر نے 22 اکتوبر کو شائع ہونے والی اپنی نئی تحقیق میں کیا ہے۔

تحقیق کے مطابق اکتوبر 2023 سے 2026 کے دوران امریکی فوج نے اسرائیلی علاقے کے دفاع کے لیے انتہائی مہنگے اور جدید میزائل شکن ہتھیار استعمال کیے۔

ان میں تھاڈ، ایس ایم تھری، ایس ایم سکس، ایس ایم ٹو اور پیٹریاٹ میزائل شامل ہیں۔

اسرائیل کے دفاع میں 609 امریکی میزائل استعمال

اسٹیفن سیملر کے مطابق امریکی محکمہ دفاع کی بجٹ دستاویزات، ہتھیاروں کی خریداری کے ریکارڈ، خفیہ معلومات کے کھلے ذرائع اور ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کی بنیاد پر یہ تخمینہ تیار کیا گیا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ امریکا نے اسرائیل کے دفاع کے لیے 378 تھاڈ اور 186 ایس ایم تھری میزائل شکن ہتھیار استعمال کیے۔

یہ دونوں اقسام مجموعی استعمال کا تقریباً 93 فیصد بنتی ہیں۔

اس کے علاوہ 43 ایس ایم ٹو اور ایس ایم سکس جبکہ دو پیٹریاٹ میزائل بھی اس تخمینے میں شامل ہیں۔

صرف 2026 کی جنگ میں 5 ارب 20 کروڑ ڈالر خرچ

تحقیق کے مطابق 28 فروری سے 21 مئی 2026 کے دوران اسرائیل کے دفاع کے لیے امریکا نے تقریباً 310 میزائل شکن ہتھیار استعمال کیے۔

ان کی تخمینی لاگت 5 ارب 20 کروڑ ڈالر تھی۔

یہ پورے تین سال کے تخمینی اخراجات کا تقریباً نصف بنتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس عرصے میں امریکا نے بڑی تعداد میں تھاڈ اور ایس ایم تھری میزائل استعمال کیے۔

محقق نے اس تخمینے کے لیے 205 تھاڈ، 85 ایس ایم تھری اور 20 ایس ایم سکس میزائلوں کا حساب لگایا ہے۔

جون 2025 کی جنگ میں بھی اربوں ڈالر خرچ

اسٹیفن سیملر کی تحقیق کے مطابق جون 2025 میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوران امریکا نے اسرائیل کے دفاع کے لیے تقریباً 235 میزائل شکن ہتھیار داغے۔

ان کی مجموعی تخمینی لاگت 4 ارب 80 کروڑ ڈالر تھی۔

رپورٹ کے مطابق اس جنگ میں امریکا نے تقریباً 80 ایس ایم تھری اور 155 تھاڈ میزائل استعمال کیے۔

اس طرح جون 2025 اور فروری سے مئی 2026 کی جنگی مدتوں میں استعمال ہونے والے امریکی میزائلوں کی مجموعی تعداد 545 بنتی ہے۔

ان دونوں ادوار میں تقریباً 10 ارب ڈالر کے میزائل شکن ہتھیار استعمال ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

ایک میزائل کی قیمت کتنی ہے؟

امریکی دفاعی نظام میں استعمال ہونے والے مختلف میزائل شکن ہتھیاروں کی قیمتوں میں نمایاں فرق ہے۔

اسٹیفن سیملر کے مطابق ایس ایم تھری میزائل کی تخمینی قیمت تقریباً 3 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ہے، جبکہ تھاڈ میزائل کی قیمت تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر ہے۔

پیٹریاٹ میزائل کی قیمت تقریباً 53 لاکھ ڈالر بتائی گئی ہے۔

یہ قیمتیں تحقیق میں استعمال کیے گئے تخمینے ہیں اور مختلف مالی سالوں یا خریداری کے معاہدوں کے مطابق ان میں فرق ہوسکتا ہے۔

امریکا نے اسرائیل سے بھی زیادہ میزائل داغے؟

اسٹیفن سیملر نے اپنی تحقیق میں یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیلی علاقے کے دفاع میں امریکا نے خود اسرائیل سے زیادہ بیلسٹک میزائل شکن ہتھیار استعمال کیے۔

ان کے اندازے کے مطابق اسرائیل کے ہر ایک میزائل شکن ہتھیار کے مقابلے میں امریکا نے تقریباً ڈیڑھ سے دو میزائل داغے۔

تاہم محقق نے تسلیم کیا ہے کہ اسرائیلی میزائلوں کے استعمال سے متعلق مکمل اعدادوشمار دستیاب نہیں، اس لیے یہ موازنہ بھی ایک تخمینہ ہے۔

11 ارب ڈالر کے اخراجات میں کیا شامل نہیں؟

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ 11 ارب ڈالر کا تخمینہ صرف اسرائیلی علاقے کے دفاع میں استعمال ہونے والے امریکی میزائل شکن ہتھیاروں کی لاگت پر مشتمل ہے۔

اس میں امریکی فوجی اڈوں، اہلکاروں یا خطے میں امریکی تنصیبات کے دفاع کے لیے داغے گئے میزائل شامل نہیں۔

مثال کے طور پر جون 2025 میں قطر کے العدید فوجی اڈے کے دفاع کے لیے استعمال ہونے والے 30 پیٹریاٹ میزائل اس تخمینے سے باہر رکھے گئے ہیں۔

اسی طرح ایران کے خلاف جنگ کے دوران امریکی فوج کی دیگر دفاعی کارروائیوں پر ہونے والے اخراجات بھی اس مجموعے میں شامل نہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ 11 ارب ڈالر کو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں کی مکمل لاگت نہیں سمجھنا چاہیے۔

اسرائیل کو سالانہ اربوں ڈالر کی امریکی فوجی امداد

امریکی محکمہ خارجہ کی دستاویزات کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے درمیان طویل المدت فوجی تعاون کے معاہدے کے تحت اسرائیل کو سالانہ 3 ارب 30 کروڑ ڈالر کی فوجی مالی امداد اور میزائل دفاعی پروگراموں کے لیے مزید 50 کروڑ ڈالر فراہم کیے جاتے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیل سے متعلق اضافی امریکی فوجی امداد اور خطے میں فوجی کارروائیوں کے اخراجات بھی اربوں ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔

براؤن یونیورسٹی کے منصوبے ’’کاسٹس آف وار‘‘ کی اکتوبر 2024 کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ صرف ایک سال کے دوران اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے لیے امریکی امداد اور خطے میں متعلقہ امریکی فوجی کارروائیوں پر کم از کم 22 ارب 76 کروڑ ڈالر خرچ ہوئے تھے۔

تاہم یہ ایک الگ اور وسیع مالی تخمینہ ہے، جسے میزائل شکن ہتھیاروں کی 11 ارب ڈالر کی لاگت میں جمع کرکے نیا مجموعہ پیش کرنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ مختلف اخراجات میں باہمی تداخل ہوسکتا ہے۔

اسرائیل کے دفاع کی بڑھتی ہوئی قیمت

اسٹیفن سیملر کی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کے دفاع کے لیے امریکا کا کردار صرف ہتھیار فراہم کرنے یا مالی امداد دینے تک محدود نہیں رہا۔

امریکی فوج نے براہِ راست اپنے مہنگے ترین میزائل شکن ہتھیار بھی استعمال کیے ہیں۔

تحقیق کے مطابق اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی علاقائی کشیدگی میں امریکی میزائل دفاعی وسائل پر نمایاں مالی بوجھ پڑا ہے۔

تاہم 609 میزائلوں اور 11 ارب ڈالر کی رقم کو حتمی سرکاری تعداد کے بجائے دستیاب شواہد پر مبنی تحقیقی تخمینہ سمجھنا ضروری ہے۔

اس رپورٹ کا سب سے اہم انکشاف یہ ہے کہ اسرائیل کے دفاع میں استعمال ہونے والے امریکی میزائل شکن ہتھیاروں کی تخمینی لاگت ہی 11 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ خطے میں امریکی فوج کی دیگر کارروائیوں اور اسرائیل کو دی جانے والی فوجی امداد کے اخراجات اس سے الگ ہیں۔

ماخذ: اسٹیفن سیملر، پولی گراف، 22 اکتوبر 2026؛ امریکی محکمہ خارجہ؛ براؤن یونیورسٹی، کاسٹس آف وار۔