تازہ ترین
عالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!عالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!
دنیا

نیتن یاہو نے اسرائیل کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا! سابق قریبی دوست نے 30 سال بعد خاموشی توڑ دی

مقبوضہ بیت المقدس (جی ٹی وی نیوز اردو): اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو اپنے ہی سابق قریبی ساتھی کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ عالمی یہودی کانگریس کے صدر اور ارب پتی کاروباری شخصیت رونالڈ لاڈر نے کئی برس کی خاموشی توڑتے ہوئے نیتن یاہو پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے مستقبل سے زیادہ اپنی سیاسی بقا کو اہمیت دیتے رہے ہیں۔

اسرائیلی اخبار ہارٹز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں رونالڈ لاڈر نے نیتن یاہو کی قیادت پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تقریباً 30 سال پہلے ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم اپنے سیاسی مستقبل کو ملک کے مفادات پر ترجیح دیتے ہیں۔

یہ تنقید اس لیے بھی غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے کہ لاڈر کا شمار ماضی میں نیتن یاہو کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا رہا ہے۔

’’30 سال پہلے ہی نیتن یاہو کی حقیقت جان گیا تھا‘‘

رونالڈ لاڈر کے مطابق انہوں نے تین دہائیاں قبل ہی نیتن یاہو کے سیاسی طرزِعمل میں ایک ایسی سوچ دیکھ لی تھی جس میں ذاتی اقتدار اور سیاسی مستقبل کو قومی مفاد پر فوقیت حاصل تھی۔

لاڈر نے اب اس معاملے پر کھل کر بات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کے مطابق وہ اسرائیلی عوام کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ ملک جس سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔

لاڈر کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی نیتن یاہو سے ناراضی محض کسی ایک سیاسی فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل عرصے سے پیدا ہونے والے اختلافات کا حصہ ہے۔

نیتن یاہو سے ناراضی، اسرائیل میں اپنا گھر بھی بیچ دیا!

ہارٹز کے مطابق رونالڈ لاڈر نے گزشتہ ایک سال کے دوران اسرائیل سے اپنے ذاتی روابط بھی محدود کردیے ہیں۔

انہوں نے انٹرویو میں بتایا:

’’میں نے تل ابیب میں اپنا گھر فروخت کردیا ہے۔‘‘

لاڈر کے مطابق انہوں نے بیرسبع میں اپنی جائیداد بھی یہودی قومی فنڈ کے حوالے کردی۔

اس پیش رفت کو ان کے اسرائیل کی موجودہ صورتحال سے گہرے عدم اطمینان کے اظہار کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

تاہم ان کے جائیداد سے متعلق فیصلوں کو اسرائیلی شہریت ترک کرنے یا تمام ادارہ جاتی تعلقات ختم کرنے کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔

’’تمہارے باپ دادا نے ملک کے لیے جنگ لڑی، تم بے وقوفی سے سب کچھ گنوا رہے ہو!‘‘

رونالڈ لاڈر نے اسرائیلی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے انتہائی سخت الفاظ استعمال کیے۔

انہوں نے کہا:

’’تمہارے باپ دادا نے اس ملک کے لیے جنگ لڑی، اور تم اپنی بے وقوفی کی وجہ سے سب کچھ کھو رہے ہو۔‘‘

لاڈر کا یہ بیان اسرائیلی معاشرے اور موجودہ سیاسی قیادت سے ان کی مایوسی کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے اسرائیلی عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے ملک کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچیں۔

نیتن یاہو کے لیے تنقید کیوں اہم ہے؟

رونالڈ لاڈر محض ایک کاروباری شخصیت نہیں بلکہ عالمی یہودی کانگریس کے صدر ہیں، جو دنیا بھر میں یہودی برادریوں کی نمائندگی کرنے والی ایک اہم بین الاقوامی تنظیم ہے۔

ان کا شمار ایسے بااثر افراد میں ہوتا ہے جن کے اسرائیلی اور امریکی سیاسی حلقوں سے طویل عرصے سے روابط رہے ہیں۔

ماضی میں نیتن یاہو کے قریب رہنے والی ایسی شخصیت کی کھلی تنقید اسرائیلی وزیراعظم کے لیے سیاسی طور پر اہم سمجھی جاسکتی ہے۔

یہ تنقید اسرائیل کے اندر قیادت، قومی مفادات اور مستقبل کی سیاسی سمت سے متعلق جاری اختلافات کو بھی نمایاں کرتی ہے۔

اقتدار بچانے کی سیاست یا اسرائیل کا مستقبل؟

لاڈر نے اپنے انٹرویو میں نیتن یاہو کی سیاسی ترجیحات پر بنیادی سوال اٹھایا ہے۔

ان کا الزام ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی سیاسی بقا کو ملک کے مفادات سے زیادہ اہمیت دی۔

یہ ایک سابق قریبی ساتھی کی سیاسی رائے اور الزام ہے، جسے کسی عدالتی یا تحقیقاتی نتیجے کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔

تاہم لاڈر کا یہ مؤقف اسرائیل کے مستقبل اور نیتن یاہو کی قیادت کے بارے میں ان کے شدید عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

اسرائیلی عوام کے نام آخری تنبیہ؟

ہارٹز کو دیے گئے انٹرویو میں لاڈر نے واضح کیا کہ وہ مزید خاموش رہنے کے بجائے اسرائیلی عوام کو خبردار کرنا چاہتے ہیں۔

ان کے مطابق ملک کی موجودہ سمت پر سوال اٹھانا ضروری ہے، اس سے پہلے کہ صورتحال مزید خراب ہوجائے۔

نیتن یاہو کے لیے اس انٹرویو کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ ان پر ذاتی اقتدار کو قومی مفاد پر ترجیح دینے کا الزام ایک ایسے شخص نے عائد کیا ہے جو کبھی ان کے قریبی حلقے کا حصہ تھا۔

رونالڈ لاڈر کے سخت الفاظ نے اسرائیلی قیادت سے متعلق ایک اہم سوال کو پھر نمایاں کردیا ہے: کیا نیتن یاہو کی سیاست اسرائیل کے مستقبل کو محفوظ بنارہی ہے یا ان کی سیاسی بقا ملک کے اندر بڑھتے اختلافات کی ایک بڑی وجہ بن چکی ہے؟

ماخذ: اسرائیلی اخبار ہارٹز، رونالڈ لاڈر کا انٹرویو۔