واشنگٹن (جی ٹی وی نیوز اردو): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر پاک بھارت جنگ کا حوالہ دیا اور دعویٰ کیا کہ 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان لڑائی کے دوران 11 طیارے گرائے گئے۔
ٹرمپ کے بیان میں طیاروں کی تعداد اور جنگ بندی میں امریکی کردار سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کو تجارتی محصولات عائد کرنے کی دھمکی دے کر لڑائی روکنے پر آمادہ کیا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کو واضح کیا گیا تھا کہ اگر جنگ جاری رہی تو امریکا ان کے ساتھ تجارتی معاملات میں سخت اقدامات کرے گا۔ تاہم ان کے بیان میں اس عمل کی تفصیلات یا کسی باقاعدہ معاہدے کا ذکر نہیں کیا گیا۔
امریکی صدر نے خطاب میں یہ بھی کہا کہ انہوں نے دنیا بھر میں آٹھ جنگیں رکوانے میں کردار ادا کیا، جن میں سے پانچ تنازعات کو تجارتی محصولات کے ذریعے دباؤ ڈال کر ختم کرایا گیا۔ ان دعوؤں کی جانچ کے لیے متعلقہ تنازعات، جنگ بندی کے معاہدوں اور دیگر فریقوں کے مؤقف کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔
ٹرمپ نے اقوام متحدہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارہ جنگیں روکنے میں مؤثر کردار ادا نہیں کر سکا۔ ان کے خطاب میں امریکی سفارت کاری اور معاشی دباؤ کو تنازعات کے حل کے لیے اہم ذرائع کے طور پر پیش کیا گیا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی 2025 میں شدید فوجی کشیدگی کے بعد جنگ بندی ہوئی تھی۔ اس دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیاں کیں، جبکہ طیاروں کے نقصان اور جنگ بندی میں بیرونی کردار سے متعلق مختلف بیانات سامنے آئے۔ ٹرمپ اس سے قبل بھی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں امریکی کردار کا ذکر کرتے رہے ہیں، جبکہ پاکستان اور بھارت کی جانب سے مختلف مواقع پر اس معاملے کی الگ الگ وضاحت کی گئی۔
ٹرمپ کے تازہ بیان میں 11 طیارے گرائے جانے اور تجارتی دھمکیوں کے ذریعے جنگ رکوانے کے حوالے سے مزید شواہد پیش نہیں کیے گئے۔ اس لیے ان باتوں کو امریکی صدر کے بیان اور دعوے کے طور پر ہی بیان کرنا مناسب ہے۔






