واشنگٹن (جی ٹی وی نیوز اردو): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا چاہے تو ایران پر قبضہ کر سکتا ہے۔
فلوریڈا میں خطاب کے دوران انہوں نے ایران کی صورتحال کو تباہ کن قرار دیا اور کہا کہ امریکا اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کر رہا ہے۔ تاہم ایران پر قبضے یا کسی نئی فوجی کارروائی کے بارے میں ان کے بیان میں کوئی واضح عملی منصوبہ پیش نہیں کیا گیا۔
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے بارے میں بھی کہا کہ یہ مکمل طور پر امریکی کنٹرول میں ہے اور جنگ سے پہلے کے مقابلے میں امریکا زیادہ تیل برآمد کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے اہم گزرگاہ ہے، جہاں کسی بھی فوجی کشیدگی سے تیل کی سپلائی، بحری آمدورفت اور عالمی منڈیوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ امریکی صدر کے کنٹرول سے متعلق بیان کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
ایران کے خلاف ایک اور امریکی فوجی کارروائی کے امکان سے متعلق بھی ٹرمپ کے بیان نے خطے میں کشیدگی کے خدشات کو نمایاں کیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان تنازع میں فوجی کارروائیوں کے ساتھ سفارتی رابطے اور آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی اہم عوامل ہیں۔ کسی نئی کارروائی کے بارے میں حتمی فیصلہ یا وقت سامنے نہ آنے کے باعث اس امکان کو فی الحال بیان کردہ خدشے کے طور پر ہی دیکھا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے کیوبا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے معاملے کے بعد امریکا اس ملک سے بھی نمٹے گا۔ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو کیوبا کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے بھیجنے کا امکان ظاہر کیا۔ اس بیان میں مجوزہ دورے کی تاریخ، مذاکرات کے طریقۂ کار یا کسی طے شدہ معاہدے کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
امریکی صدر کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران سے متعلق فوجی اور سفارتی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز ہے۔ آبنائے ہرمز میں کسی بھی نئی کشیدگی کے اثرات صرف امریکا اور ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خلیجی ممالک، تیل کی عالمی منڈی اور بین الاقوامی بحری تجارت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ فی الحال ٹرمپ کے بیان سے ایران یا کیوبا کے حوالے سے کسی نئی کارروائی یا معاہدے کی حتمی تصدیق نہیں ہوتی۔






