تہران (جی ٹی وی نیوز اردو): خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دو سکیورٹی عہدیداروں نے بتایا ہے کہ تہران نے خلیج میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے سے متعلق تفصیلی منصوبے تیار کیے ہیں۔
رپورٹ میں یہ امکان امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر دوبارہ حملوں کی صورت میں زیرِ غور حکمت عملی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک ایرانی سکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ اس منصوبے کا مقصد زیرِ سمندر کیبلز کی مرمت میں رکاوٹ پیدا کرنا اور انٹرنیٹ و مواصلاتی خدمات کی بندش کو طویل کرنا ہو سکتا ہے۔ تاہم دونوں عہدیداروں نے مبینہ اہداف، کارروائی کے طریقۂ کار یا منصوبے پر عمل درآمد کے کسی وقت کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
زیرِ سمندر کیبلز عالمی ڈیجیٹل نظام کا اہم حصہ ہیں۔ ان کے ذریعے مختلف ممالک کے درمیان انٹرنیٹ ٹریفک، ڈیٹا اور بین الاقوامی مواصلات کا بڑا حصہ منتقل ہوتا ہے۔ ان کیبلز کو نقصان پہنچنے سے انٹرنیٹ کی رفتار، کاروباری رابطوں، مالیاتی خدمات اور ڈیجیٹل مواصلات میں خلل پیدا ہو سکتا ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں متبادل راستے محدود ہوں۔
خلیجی خطہ توانائی کی عالمی ترسیل کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی ڈیجیٹل رابطوں کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر کسی تنازع کے دوران مواصلاتی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف متعلقہ ممالک تک محدود رہنے کے بجائے دیگر خطوں تک پھیل سکتے ہیں۔ مرمت کے لیے خصوصی جہازوں، تکنیکی عملے اور سازوسامان کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ سکیورٹی خطرات اور فوجی کشیدگی مرمت کے کام کو مزید مشکل بنا سکتی ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ میں مذکور معلومات دو نام ظاہر نہ کرنے والے ایرانی سکیورٹی عہدیداروں سے منسوب ہیں۔ رپورٹ میں ایسے کسی حملے کے وقوع پذیر ہونے یا منصوبے پر عمل درآمد کی آزادانہ تصدیق پیش نہیں کی گئی۔ اسی طرح مخصوص کیبلز یا ممکنہ اہداف کے نام بھی ظاہر نہیں کیے گئے۔
یہ رپورٹ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم ہے، کیونکہ جدید جنگی صورتحال میں مواصلاتی نیٹ ورک اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی سلامتی بھی بنیادی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ تاہم منصوبے سے متعلق مزید تفصیلات اور آزادانہ تصدیق سامنے آنے تک اسے ایرانی عہدیداروں سے منسوب رپورٹ کے طور پر ہی بیان کیا جانا چاہیے۔






