تازہ ترین
ایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیاں، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتاردانتوں کی صحت صرف برش سے نہیں بلکہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!!! نئی تحقیق میں اہم انکشافایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیاں، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتاردانتوں کی صحت صرف برش سے نہیں بلکہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!!! نئی تحقیق میں اہم انکشاف
دنیا

افغانستان میں طالبان مخالف گروپس کی گوریلا کارروائیاں تیز؛ رجیم کے اہم اہداف نشانے پر

افغانستان میں طالبان مخالف کارروائیاں

کابل (جی ٹی وی نیوز اردو): افغانستان میں طالبان مخالف مسلح گروپس نے تخار، پروان اور بدخشاں میں طالبان اہلکاروں اور فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کی اطلاعات دی ہیں۔

ان گروپس کے بیانات کے مطابق مختلف مقامات پر حملوں میں طالبان اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے، جبکہ ایک فوجی گاڑی بھی تباہ ہوئی۔ ان واقعات کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

افغانستان کے سابق جنرل یاسین ضیا کی تنظیم افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے مطابق صوبہ تخار کے دارالحکومت تالقان میں طالبان کی انٹیلی جنس ٹیم کو گوریلا حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ تنظیم نے بتایا کہ کارروائی میں ایک اہم کمانڈر سمیت چار اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ ان کی گاڑی تباہ ہوگئی۔ بیان میں ہلاک اور زخمی اہلکاروں کی الگ الگ تعداد واضح نہیں کی گئی۔

اسی تنظیم کے مطابق صوبہ پروان میں کابل شمال شاہراہ پر طالبان کی ایک چوکی پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں تین اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ تنظیم نے ان کارروائیوں کو طالبان حکومت کے خلاف جاری مسلح مزاحمت کا حصہ قرار دیا، تاہم واقعے کی آزاد ذرائع سے تصدیق یا طالبان حکام کا ردعمل دستیاب نہیں۔

دوسری جانب افغانستان کے سابق نائب صدر امراللہ صالح سے وابستہ تنظیم افغان گرین ٹرینڈ نے صوبہ بدخشاں کے دارالحکومت فیض آباد میں طالبان کی 219ویں بریگیڈ کی ایک فوجی گاڑی کو گھات لگا کر نشانہ بنانے کی اطلاع دی۔ تنظیم کے مطابق حملے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ اس واقعے میں جانی نقصان سے متعلق تفصیلات بیان میں سامنے نہیں آئیں۔

طالبان مخالف گروپس کی جانب سے جاری بیانات افغانستان کے مختلف علاقوں میں مسلح مزاحمت کی سرگرمیوں کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی بنیاد پر ملک بھر میں سکیورٹی کی مجموعی صورتحال کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ حملوں کی نوعیت، ان کے نتائج اور طالبان انتظامیہ کے کنٹرول سے متعلق صورت حال کا درست جائزہ لینے کے لیے آزادانہ تصدیق اور متعلقہ حکام کا مؤقف اہم ہے۔

فی الحال تخار، پروان اور بدخشاں میں بیان کردہ کارروائیوں کے حوالے سے ہلاکتوں، زخمیوں اور املاک کے نقصان کی تفصیلات متعلقہ تنظیموں کے بیانات تک محدود ہیں۔