تہران (جی ٹی وی نیوز اردو): ایرانی مسلح افواج کے سربراہ علی عبداللہی نے اعلان کیا ہے کہ امریکی بحری جہازوں کو دوبارہ خلیج فارس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس امکان کو مسترد کیا کہ امریکی فوج اور بحریہ دوبارہ اس خطے میں داخل ہوسکتی ہیں۔
علی عبداللہی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی صدر کا اپنی فوج اور بحریہ کی خلیج فارس میں واپسی کا تصور محض خواب ہے۔ ان کے مطابق ایران کسی بھی صورت اور کسی بھی وقت امریکی فوجی جہازوں کو خلیج فارس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔
اس سے ایک روز قبل ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر نے کہا تھا کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز سے 600 سے 700 کلومیٹر دور چلی گئی ہیں۔ تاہم، اس فاصلے اور فوجی نقل و حرکت کی آزادانہ تصدیق کے بارے میں فراہم کردہ معلومات میں تفصیل موجود نہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کے دھماکوں اور جہازوں پر حملوں سے متعلق غلط خبریں پھیلا کر امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے پہلے تیل کی قیمتیں بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق جنگ سے پہلے کے مقابلے میں اب آبنائے ہرمز سے زیادہ تیل گزر رہا ہے، جبکہ ایران تیل کی قیمتوں میں اضافے کے لیے مختلف اقدامات کر رہا ہے۔ ایران اور امریکہ کے بیانات سے آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت اور توانائی کی عالمی ترسیل پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات نمایاں ہوتے ہیں۔
خلیج فارس اور آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے اہم راستوں میں شامل ہیں۔ اس خطے میں فوجی کشیدگی یا بحری نقل و حرکت میں رکاوٹ عالمی توانائی منڈی اور تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔






