تازہ ترین
ایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیاں، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتاردانتوں کی صحت صرف برش سے نہیں بلکہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!!! نئی تحقیق میں اہم انکشافایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیاں، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتاردانتوں کی صحت صرف برش سے نہیں بلکہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!!! نئی تحقیق میں اہم انکشاف
دنیا

ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیا

واشنگٹن (جی ٹی وی نیوز اردو): امریکی نیشنل انٹیلی جنس کے سربراہ جے کلیٹن نے خبردار کیا ہے کہ ایران نے مشرق وسطیٰ اور اس سے باہر امریکی شہریوں اور اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوششوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ یہ انتباہ امریکی حکام کے درمیان سکیورٹی خدشات اور ایران سے متعلق انٹیلی جنس معلومات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق، جے کلیٹن نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو بھیجی گئی یادداشت میں ایسی انٹیلی جنس معلومات کا حوالہ دیا جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔

یادداشت میں مزید کہا گیا کہ امریکی شہریوں کے خلاف مہلک حملوں کی منصوبہ بندی کی کوششیں مشرق وسطیٰ اور بعض دیگر ممالک میں زیادہ سنجیدہ مرحلے تک پہنچ چکی ہیں۔ تاہم، فراہم کردہ معلومات میں ان مبینہ منصوبوں کی نوعیت، ممکنہ اہداف یا کسی مخصوص حملے کی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔

امریکی خبر رساں ویب سائٹ ایگزیوز نے اس یادداشت کی خبر سب سے پہلے شائع کی تھی۔ یادداشت میں بیان کردہ خدشات امریکی انٹیلی جنس حکام کے جائزے پر مبنی ہیں، جبکہ ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے دوران سکیورٹی انتباہات دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پہلو بنے ہوئے ہیں۔ امریکی حکام کے بیان کردہ خدشات کے عملی اثرات اور ان کے جواب میں ممکنہ اقدامات سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔