تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

حوثی ملیشیا کا ریاض ایئرپورٹ اور آرامکو ریفائنری کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

حوثی ملیشیا کے فوجی ترجمان نے سعودی عرب کے مختلف اہم مقامات کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کا اعلان کیا ہے۔

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق گروپ نے تین فوجی کارروائیوں کے دوران سعودی عرب کے مختلف مقامات کو ہدف بنایا۔ ان میں دارالحکومت ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، رابغ میں آرامکو کی ریفائنری، ابہا ایئرپورٹ اور خمیس مشیط کا فوجی اڈہ شامل ہیں۔

ترجمان کے مطابق نجران اور جازان سمیت سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں بھی مختلف حساس مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

حوثی ملیشیا نے کہا ہے کہ ان کارروائیوں میں بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے علاوہ ڈرونز بھی استعمال کیے گئے۔ ترجمان نے ریاض ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں فضائی ٹریفک متاثر ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔

رابغ میں آرامکو کی ریفائنری کو نشانہ بنانے کے حوالے سے حوثی ترجمان نے کہا کہ کارروائی کے نتیجے میں تنصیب میں آگ لگی۔

حوثی ملیشیا نے ان کارروائیوں کو یمن میں سعودی فضائی حملوں کے ردعمل کے طور پر بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمن کے مختلف علاقوں میں سعودی حملے کیے گئے تھے۔

تاہم سعودی حکام کی جانب سے حوثی ملیشیا کے ان دعوؤں پر فوری طور پر تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، اس لیے حملوں کے مکمل نتائج اور نقصانات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھ رہی ہے اور خطے میں فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے خدشات بھی موجود ہیں۔