ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران واشنگٹن پر مکمل اعتماد نہیں کرسکتا۔
پزشکیان کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوران بھی فوجی کارروائیاں ہوتی رہی ہیں، جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا بحران مزید گہرا ہوا ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ جب ایران مذاکرات کی میز پر آتا ہے تو اسے حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کا عمل ان کے لیے بے معنی دکھائی دیتا ہے۔
پزشکیان نے امریکا پر ایران کے خلاف تین مرتبہ حملہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ واشنگٹن کا مقصد مذاکرات کے ذریعے اختلافات حل کرنا نہیں بلکہ ایرانی حکومت کی تبدیلی ہے۔
ایرانی صدر کے بیانات میں بنیادی نکتہ امریکا کے ساتھ اعتماد کی کمی ہے۔ اس سے قبل بھی پزشکیان نے دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی بداعتمادی کو مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا تھا۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران تہران کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آتا رہا ہے کہ مذاکرات اسی وقت نتیجہ خیز ہوسکتے ہیں جب معاہدوں اور سفارتی وعدوں کی پاسداری یقینی بنائی جائے۔
موجودہ صورتحال میں ایران جنگ کے خاتمے اور مستقبل کے مذاکرات کے حوالے سے دونوں جانب سے مختلف مؤقف سامنے آرہے ہیں، تاہم امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد کی بحالی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔






