امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے ہمیشہ تیار ہے اور ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہونے کی امید ہے۔
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم سمندری راستے سے تیل کی ترسیل جاری ہے۔ امریکی صدر نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے ریفائنریوں کو بھی اہم عنصر قرار دیا۔
ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے حوالے سے ٹرمپ کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز اور دیگر معاملات پر شدید اختلافات موجود ہیں۔
ٹرمپ نے برطانیہ کے فیئر فورڈ ایئربیس سے امریکی بمبار طیاروں کی واپسی پر بھی بات کی اور کہا کہ وہاں مخصوص خطرہ موجود تھا، جس کے باعث طیاروں کو برطانوی اڈے سے ہٹا کر دور مقام پر منتقل کیا گیا۔
امریکی صدر کے مطابق طیاروں کو ایسے مقام پر منتقل کیا گیا جہاں انہیں ممکنہ خطرے سے زیادہ محفوظ رکھا جاسکے۔
ٹرمپ نے یمن کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حوثی ملیشیا کے خلاف امریکی آپریشن بھی جاری رہے گا۔
ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا معاملہ اس وقت مزید پیچیدہ ہے کیونکہ تہران کی جانب سے واشنگٹن پر عدم اعتماد کا اظہار کیا جارہا ہے، جبکہ امریکی انتظامیہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مختلف سفارتی راستوں کا ذکر کرتی رہی ہے۔






