تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

امریکا کی تین اتحادی ممالک کو 2.27 ارب ڈالر کے دفاعی سامان کی فروخت کی منظوری

امریکا نے مشرق وسطیٰ کے تین ممالک کو مجموعی طور پر تقریباً 2.27 ارب ڈالر مالیت کے فوجی سازوسامان اور دفاعی خدمات کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی۔

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے منظور کیے گئے تین الگ دفاعی پیکیجز میں متحدہ عرب امارات، کویت اور مصر شامل ہیں۔

سب سے بڑا پیکیج متحدہ عرب امارات کے لیے ہے جس کی تخمینی مالیت تقریباً 1.041 ارب ڈالر ہے۔ اس کے تحت متحدہ عرب امارات کو 10 ہزار تک اے پی کے ڈبلیو ایس ٹو پریسیژن گائیڈنس سسٹمز اور متعلقہ سازوسامان فراہم کیے جانے کی ممکنہ منظوری دی گئی ہے۔

مصر کے لیے 832 ملین ڈالر مالیت کے جیولن میزائل سسٹم کی ممکنہ فروخت کی منظوری دی گئی ہے۔ مجوزہ پیکیج میں جیولن میزائل اور ان کے استعمال سے متعلق کمانڈ لانچ یونٹس شامل ہیں۔

کویت کے لیے 400 ملین ڈالر کا پیکیج منظور کیا گیا ہے، جس میں پیٹریاٹ میزائل نظام کی مرمت، متعلقہ آلات اور انہیں دوبارہ استعمال کے قابل بنانے سے متعلق خدمات شامل ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق تینوں ممکنہ دفاعی معاہدوں کی مجموعی تخمینی مالیت تقریباً 2.27 ارب ڈالر بنتی ہے۔

ان دفاعی فروخت کی منظوری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث خطے میں سکیورٹی صورتحال مسلسل توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

یہ منظوری ممکنہ فروخت کے لیے ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ تینوں ممالک کو فوری طور پر تمام سامان فراہم کردیا گیا ہے۔ مجوزہ معاہدوں کے حوالے سے متعلقہ قانونی اور انتظامی مراحل بھی مکمل ہونا باقی ہیں۔