تازہ ترین
افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ پاکستان کی سلامتی کیلئے بڑا چیلنج بن گیا، امریکی جریدے کی رپورٹفالج کی علامات ظاہر ہوں تو پہلے چند منٹ میں کیا کریں؟ ماہرین نے بتادیامولانا فضل الرحمان مشرف دور میں نورا کشی کے ذریعے جعلی اپوزیشن لیڈر بنے، خواجہ آصفیوٹیوب سے پیسے کمانے والوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئیوینڈرز کو غیر ضروری سسٹمز اور ڈیٹا تک رسائی نہ دی جائے، نئی ایڈوائزری جاریوفاقی حکومت ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود مصنوعی ذہانت کی پالیسی تیار نہ کرسکیکسان بینک قائم کرنے کے اعلان سے کسانوں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو گیا، عظمیٰ بخاریچونیاں میں زہریلی کھیر کھانے سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد جاں بحقافغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ پاکستان کی سلامتی کیلئے بڑا چیلنج بن گیا، امریکی جریدے کی رپورٹفالج کی علامات ظاہر ہوں تو پہلے چند منٹ میں کیا کریں؟ ماہرین نے بتادیامولانا فضل الرحمان مشرف دور میں نورا کشی کے ذریعے جعلی اپوزیشن لیڈر بنے، خواجہ آصفیوٹیوب سے پیسے کمانے والوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئیوینڈرز کو غیر ضروری سسٹمز اور ڈیٹا تک رسائی نہ دی جائے، نئی ایڈوائزری جاریوفاقی حکومت ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود مصنوعی ذہانت کی پالیسی تیار نہ کرسکیکسان بینک قائم کرنے کے اعلان سے کسانوں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو گیا، عظمیٰ بخاریچونیاں میں زہریلی کھیر کھانے سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد جاں بحق
سائنس و ٹیکنالوجی

وینڈرز کو غیر ضروری سسٹمز اور ڈیٹا تک رسائی نہ دی جائے، نئی ایڈوائزری جاری

وینڈرز

نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے خبردار کیا ہے کہ تھرڈ پارٹی وینڈرز اور سپلائرز کے ذریعے اداروں کو سنگین سائبر حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی سے متعلق جاری کردہ نئی ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ بیرونی سروس فراہم کرنے والے ادارے (وینڈرز) اور سپلائرز کے ذریعے کسی بھی ادارے کے سیکیورٹی نظام میں بڑی کمزوریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ کلاؤڈ سروسز اور بیرونی سافٹ ویئر کا استعمال بھی سائبر سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ وینڈرز کو غیر ضروری طور پر اپنے حساس سسٹمز اور ڈیٹا تک رسائی دینے سے گریز کریں۔

سائبر خطرات سے بچاؤ کے لیے تمام سپلائرز کی سکیورٹی جانچ کو لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ تھرڈ پارٹی ایپس اور سافٹ ویئر اپ ڈیٹس میں بھی مکمل سیکیورٹی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

حساس معلومات کے تحفظ کے لیے بیرونی اداروں کے ساتھ ڈیٹا شیئرنگ میں انتہائی احتیاط برتنے کی سفارش کی گئی ہے۔

ایڈوائزری میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بیرونی سروس فراہم کرنے والوں کی سرگرمیوں کی باقاعدہ نگرانی کی جائے اور سائبر حملوں سے نمٹنے کے لیے واقعات کی فوری رپورٹنگ اور مؤثر ردعمل کا نظام اپنایا جائے۔ ایک محفوظ ادارے کے لیے صرف محفوظ شراکت داروں کا انتخاب کرنا انتہائی ضروری قرار دیا گیا ہے۔