خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمان کے تنقیدی بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہو رہا تھا، مخالفین پر حملہ کرنے والوں کو پہلے اپنا ماضی دیکھنا چاہیے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے کی گئی تنقید کا جواب دیا۔
وزیر دفاع نے تہران دورے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ایران میں کوئی دفاعی معاہدہ طے نہیں پا رہا تھا، بلکہ سعودی وزیر دفاع اور ترک انٹیلی جنس چیف بھی آئے ہوئے تھے اور جو میٹنگ ہو رہی تھی وہ وزارتِ دفاع سے متعلق نہیں تھی، تہران میں فیلڈ مارشل صلح کے لیئے گئے، اس لیے وہاں ان کی موجودگی ضروری نہیں تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل نے عالمی قیامِ امن اور خطے میں صلح و بات چیت کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہوئے ایک بڑی جنگ کو روکا، ورنہ یمن کا تنازع زیادہ بگڑ سکتا تھا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ان پر کی گئی نکتہ چینی درست نہیں تھی اور ایوان میں اختلاف کے باوجود اخلاقیات کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے اور سیاسی کامیابیوں کا اعتراف ہونا چاہیے۔
سابقہ سیاسی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے مولانا فضل الرحمان کا ماضی تضادات سے بھرا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں کوئی ایسی جماعت نہیں، جس کے ساتھ مولانا کا کبھی اختلاف اور کبھی تعاون نہ رہا ہو۔ ماضی کو بھول کر مخالفین پر حملہ کرنے والوں کو پہلے اپنا ماضی دیکھنا چاہیے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ 10 سال تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہنے کے باوجود مولانا نے کشمیر کاز کے لیے کیا خدمت کی؟ 2 سال پہلے بھی ان کے پاس متعدد عہدے تھے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف کے دور میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کو محروم رکھ کر مولانا نورا کشی کے ذریعے جعلی اپوزیشن لیڈر بنے اور پھر 7 سال خیبر پختونخوا میں حکومت کی۔
پی ڈی ایم حکومت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کے اقدامات پر ان کا منہ نہ کھلوایا جائے، یہاں مذہب کو کمائی کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان کس حیثیت سے افغانستان جانا چاہ رہے تھے کیا وہ وزیر خارجہ ہیں؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر خیبر پختونخوا میں جے یو آئی کو حکومت میں حصہ مل جاتا تو مولانا ایوان میں ایسی تقریر نہ کرتے، حصہ مل جائے تو خاموشی اور نہ ملے تو شور شروع کر دیا جاتا ہے۔






