اسرائیلی پارلیمانی انتخابات کے ایگزٹ پولز کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاہو کے اتحاد کو شدید دھچکا پہنچا ہے، ان کا بلاک اکثریت کھو چکا ہے۔
اسرائیل میں ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔ چینل 12 نیوز کے ایگزٹ پول کے مطابق، وزیر اعظم نیتن یاہو کا الٹرا آرتھوڈوکس اور انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں پر مشتمل بلاک کنیسٹ میں اپنی 68 نشستوں کی اکثریت کھو کر 52 نشستوں پر گرنے کا خدشہ ہے، تاہم ان کی لیکود پارٹی اب بھی سب سے بڑی سنگل پارٹی رہے گی۔
یروشلم میں گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ نتائج اب بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ان کے بلاک کو صیہونی اور یہودی عوام میں فیصلہ کن اکثریت حاصل ہے۔
انہوں نے عرب جماعتوں کو صیہونیت مخالف قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کے امکان کو رد کر دیا اور ایران کے ساتھ جنگ میں مدد پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔
نیتن یاہو کے سب سے بڑے حریف اور سابق ملٹری چیف گینی آئزن کوٹ کا بلاک 49 نشستیں حاصل کرتا دکھائی دے رہا ہے، انہوں نے کہا کہ عوام نے تبدیلی کے لیے ووٹ دیا ہے، تاہم ان کے پاس بھی فی الحال واضح اکثریت موجود نہیں ہے۔
دوسری جانب عرب جماعتوں جوائنٹ لسٹ اور رام نے ریکارڈ 19 نشستیں جیت کر اب تک کی سب سے بڑی عرب نمائندگی حاصل کی ہے، جو حکومت سازی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
مرکزی الیکشن کمیٹی کے مطابق، 7.3 ملین اہل ووٹرز میں سے تقریباً 5.7 ملین نے ووٹ کاسٹ کیا، جس سے ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد رہا، جو 1999 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔
ووٹوں کی حتمی گنتی کے بعد، ہر منتخب پارٹی صدر کو وزیر اعظم کے لیے اپنے نامزد کردہ رہنما کی سفارش کرے گی، جو اس شخص کو حکومت بنانے کی کوشش کا موقع دیں گے، جس کے پاس قابل عمل اتحاد بنانے کا بہترین موقع ہو۔
فی الحال یہ موقع آئزن کوٹ کو ملنے کا امکان ہے، جن کے پاس مذاکرات کے لیے 4 سے 6 ہفتے ہوں گے، تاہم ناکامی کی صورت میں نیتن یاہو کو بھی موقع مل سکتا ہے یا پھر اسرائیل میں دوبارہ انتخابات ہو سکتے ہیں۔ یہ الیکشن نیتن یاہو کی کارکردگی پر ریفرنڈم اور 7 اکتوبر کی ناکامیوں پر قیادت کا احتساب سمجھا جا رہا ہے۔






