تازہ ترین
خان آف قلات میر سلیمان داؤد کے بڑے صاحبزادے 3 افراد سمیت لاپتہگھر کے ایکویریم کی صفائی کیسے کریں؟ پانی بدلنے سے پہلے یہ بات ضرور جانیںالیکشن کمیشن کا خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کروانے کا حکماسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی اکثریت کا خواب چکنا چور!!! حکومت سازی پر بحران، عرب جماعتیں فیصلہ کن پوزیشن میں آگئیںامریکہ نے خلیجی ممالک کو نومبر کے انتخابات کے بعد ایران پر شدید حملوں سے آگاہ کردیا، امریکی اخبارپیسکو ملازمین کے میڈیکل کلیمز کے طریقہ کار میں تبدیلی، یکم دسمبر سے نیا نظام نافذ ہوگاایران میں تباہ شدہ ایٹمی تنصیبات کی دوبارہ تعمیر کے کوئی شواہد نہیں ملے، عالمی جوہری توانائی ایجنسیامریکہ میں سعودی سفیر کا حوثیوں کے خلاف عالمی اتحاد قائم کرنے کا مطالبہخان آف قلات میر سلیمان داؤد کے بڑے صاحبزادے 3 افراد سمیت لاپتہگھر کے ایکویریم کی صفائی کیسے کریں؟ پانی بدلنے سے پہلے یہ بات ضرور جانیںالیکشن کمیشن کا خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کروانے کا حکماسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی اکثریت کا خواب چکنا چور!!! حکومت سازی پر بحران، عرب جماعتیں فیصلہ کن پوزیشن میں آگئیںامریکہ نے خلیجی ممالک کو نومبر کے انتخابات کے بعد ایران پر شدید حملوں سے آگاہ کردیا، امریکی اخبارپیسکو ملازمین کے میڈیکل کلیمز کے طریقہ کار میں تبدیلی، یکم دسمبر سے نیا نظام نافذ ہوگاایران میں تباہ شدہ ایٹمی تنصیبات کی دوبارہ تعمیر کے کوئی شواہد نہیں ملے، عالمی جوہری توانائی ایجنسیامریکہ میں سعودی سفیر کا حوثیوں کے خلاف عالمی اتحاد قائم کرنے کا مطالبہ
دنیا

اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی اکثریت کا خواب چکنا چور!!! حکومت سازی پر بحران، عرب جماعتیں فیصلہ کن پوزیشن میں آگئیں

اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی اکثریت کا خواب چکنا چور

مقبوضہ بیت المقدس (جی ٹی وی نیوز اردو) — 28 اکتوبر 2026: اسرائیل کے عام انتخابات میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو واضح پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی کا سامنا ہے، جبکہ ابتدائی انتخابی جائزوں نے ملک میں ایک مرتبہ پھر طویل سیاسی بحران اور حکومت سازی کے لیے مشکل مذاکرات کا امکان پیدا کردیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 27 اکتوبر کو ہونے والی ووٹنگ کے بعد اسرائیلی ٹیلی ویژن چینلز کے نظرثانی شدہ ایکزٹ پولز میں نہ نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد کو حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ 61 نشستیں ملیں اور نہ ہی ان کے حریف گادی آئزنکوٹ کے اتحاد کو واضح اکثریت حاصل ہوسکی۔

اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کی مجموعی نشستیں 120 ہیں اور حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 ارکان کی حمایت ضروری ہے۔

نیتن یاہو کے لیے بڑا سیاسی دھچکا، اکثریت ہاتھ سے نکل گئی!

روئٹرز کے مطابق اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کان اور چینل 13 کے نظرثانی شدہ ایکزٹ پولز میں نیتن یاہو اور مخالف اتحاد کو 51، 51 نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی۔

چینل 12 کے ایکزٹ پول میں نیتن یاہو کے اتحاد کو 52 اور مخالف اتحاد کو 49 نشستیں دی گئیں۔

ان تخمینوں کے مطابق کسی بھی بڑے اتحاد کے پاس تنہا حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت موجود نہیں۔

یہ نتائج نیتن یاہو کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج ہیں، تاہم انہیں حتمی انتخابی شکست قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

عرب جماعتیں اسرائیلی اقتدار کی جنگ میں فیصلہ کن!

اسرائیلی انتخابات کا سب سے اہم پہلو عرب جماعتوں کی نمایاں کامیابی کی پیش گوئی ہے۔

روئٹرز کے مطابق نظرثانی شدہ ایکزٹ پولز میں عرب قیادت والی جماعتوں کو 18 سے 19 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔

یہ جماعتیں نیتن یاہو کے مخالف ہیں، تاہم ان کے پاس موجود نشستیں کسی ایک بڑے اتحاد کو خودبخود اکثریت فراہم نہیں کرتیں۔

اس صورتحال میں عرب جماعتوں کی حمایت، اپوزیشن کے درمیان مذاکرات اور چھوٹی جماعتوں کے فیصلے نئی حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

دوسری جانب گادی آئزنکوٹ پہلے ہی عرب جماعتوں کے ساتھ حکومتی اتحاد بنانے کے امکان کو بڑی حد تک مسترد کرچکے ہیں، جس سے ان کے لیے بھی حکومت سازی مشکل ہوسکتی ہے۔

نیتن یاہو اور آئزنکوٹ دونوں کے دعوے، اقتدار کا فیصلہ کون کرے گا؟

ابتدائی نتائج سامنے آنے کے بعد نیتن یاہو نے اپنے حامیوں سے خطاب میں دائیں بازو کی مضبوط حکومت بنانے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے اپنی جماعت لیکود کی انتخابی کارکردگی کو نمایاں کرتے ہوئے حکومت سازی کے لیے کوششیں جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

دوسری جانب سابق فوجی سربراہ اور اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ نے کہا کہ ووٹرز نے نیتن یاہو کی قیادت کو مسترد کردیا ہے۔

انہوں نے نیتن یاہو سے سیاست چھوڑنے کا مطالبہ بھی کیا۔

تاہم دونوں رہنماؤں کے بیانات کے باوجود پارلیمانی اعدادوشمار کسی ایک فریق کی واضح کامیابی ظاہر نہیں کرتے۔

انتخابی نتائج کے دوران نیتن یاہو نے ایران کا معاملہ پھر چھیڑ دیا!

انتخابات کے بعد اپنے خطاب میں نیتن یاہو نے ایک مرتبہ پھر ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا۔

روئٹرز کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر ایران سے متعلق مزید اقدامات کا امکان ظاہر کیا۔

نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے سامنے ایران سے لاحق خطرے کو ختم کرنے کا تاریخی موقع موجود ہے۔

دوسری جانب گادی آئزنکوٹ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ اسرائیل کی قومی سلامتی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب اسرائیلی میڈیا میں ایران سے متعلق فوجی اقدامات پر وزیراعظم اور فوجی سربراہ کے درمیان اختلافات کی اطلاعات بھی زیرِ بحث ہیں، جن کی نیتن یاہو تردید کرچکے ہیں۔

ریکارڈ ووٹنگ، اسرائیلی عوام میں گہری سیاسی تقسیم

اسرائیلی الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات میں ووٹنگ کی شرح 77.7 فیصد رہی، جو گزشتہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے کی بلند ترین شرح ہے۔

روئٹرز کے مطابق ووٹرز کے فیصلوں پر 7 اکتوبر 2023 کے حملوں، غزہ میں جنگ، ایران کے ساتھ تصادم اور اسرائیل کی سلامتی سے متعلق بحث کے گہرے اثرات رہے۔

نیتن یاہو اپنی فوجی کارروائیوں کو کامیابی کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں، جبکہ مخالفین ان کی حکومت کو سلامتی کی ناکامیوں اور سیاسی تقسیم کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

واضح اکثریت نہ ملی تو کیا نیتن یاہو اقتدار میں رہیں گے؟

اسرائیلی انتخابی نظام کے تحت اگر کوئی جماعت یا اتحاد 61 نشستوں کی حمایت حاصل نہ کرسکے تو مختلف جماعتوں کے درمیان حکومت سازی کے مذاکرات ہوتے ہیں۔

یہ مذاکرات کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتے ہیں۔

روئٹرز کے مطابق اگر نئی حکومت کی تشکیل میں تعطل برقرار رہا تو نیتن یاہو عبوری وزیراعظم کے طور پر عہدے پر رہ سکتے ہیں۔

سیاسی تعطل ختم نہ ہونے کی صورت میں اسرائیل کو ایک اور انتخابات کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔

اسرائیل میں اصل مقابلہ اب حکومت بنانے کا!

ابتدائی انتخابی جائزوں نے یہ واضح کردیا ہے کہ نیتن یاہو کے لیے اقتدار میں واپسی کا راستہ آسان نہیں، لیکن ان کے مخالفین بھی واضح اکثریت حاصل نہیں کرسکے۔

عرب جماعتوں کی نمایاں نشستیں، اپوزیشن کی اندرونی شرائط اور دائیں بازو کی جماعتوں کے فیصلے آئندہ سیاسی صورتحال کا تعین کریں گے۔

اسرائیلی انتخابات میں فی الحال کوئی واضح فاتح سامنے نہیں آیا، لیکن نیتن یاہو کی مطلوبہ پارلیمانی اکثریت حاصل نہ ہونے سے ملک میں سیاسی غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے۔

حتمی نتائج آنے اور اتحادی مذاکرات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگا کہ نیتن یاہو ایک مرتبہ پھر حکومت بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا اسرائیل میں اقتدار کا نیا باب شروع ہوتا ہے۔