امریکی اخبار کے مطابق امریکہ نے خلیجی ممالک کو 3 نومبر کے وسطی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ایک مختصر اور شدید فوجی مہم کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے متعدد خلیجی عرب ممالک کو 3 نومبر کے وسطی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ایک مختصر لیکن انتہائی شدید فوجی مہم کے لیے تیار رہنے کا کہا ہے۔
سفارتی اور فوجی ذرائع کے حوالے سے اخبار نے بتایا کہ یہ پیغامات اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کو کمزور کرنے اور اسے مذاکرات پر مجبور کرنے کے لیے شدید جنگی کارروائیوں کا ایک نیا دور شروع کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔
امریکی فوج پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم کو ٹیکساس سے خطے میں منتقل کر رہی ہے اور حساس اڈوں سے اپنے اہلکاروں کو ہٹا چکی ہے، جبکہ بمبار اور فائٹر جیٹس کو حملوں کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگلے ماہ مشرق وسطیٰ میں موجود 20 امریکی جنگی جہازوں کے ساتھ ایک نیا ایئر کرافٹ کیریئر اسٹرائیک گروپ اور میرین مہم جو یونٹ شامل ہو جائیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا لیکن وہ انتخابات کے بعد ایک بڑے حملے کی طرف مائل ہیں، جس میں ایران کے انفراسٹرکچر اور ایٹمی سائٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے ان فوجی منصوبوں پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ تمام آپشنز کھلے رکھتے ہیں تاکہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
صدر ٹرمپ نے ٹیکساس کی ایک ریلی میں کہا کہ آپ چند ہفتوں میں ایران کا معاملہ دیکھ لیں گے، ہم نے آپریشن مڈ نائٹ ہیمر اور آپریشن ایپک فیوری کے ذریعے ایران کی صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے اور یہ جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی۔






