عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ایجنسی کو ایران میں امریکی و اسرائیلی حملوں میں تباہ ہونے والی ایٹمی تنصیبات کی تعمیرِ نو کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ایجنسی کو ایسے کوئی شواہد نہیں ملے، جن سے ظاہر ہو کہ ایران نے 2025 اور 2026 میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں تباہ ہونے والی اپنی ایٹمی تنصیبات کی مرمت یا دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش کی ہے۔
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان تنصیبات کی اصل صورتحال کی تصدیق کے لیے وہاں تک رسائی لازمی ہے۔ گروسی نے کہا کہ ایران نے ایٹمی مواد کی تصدیق کے لیے مطلوبہ معلومات اور رسائی فراہم نہیں کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خاص تشویش کا ایک شعبہ ایران کا پہلے سے واضح کردہ ایٹمی مواد ہے، جس میں 440 کلوگرام اعلیٰ درجے کا یورینیم شامل ہے۔
گروسی کا کہنا تھا کہ حملوں کے بعد سے معمول کی انسپکشنز بحال نہیں ہو سکی ہیں، جس میں صرف بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ ایک استثنیٰ ہے۔
انہوں نے تہران پر زور دیا کہ وہ ایجنسی کے ساتھ تعاون کرے اور خبردار کیا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر کسی بھی سفارتی معاہدے کے لیے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی تصدیق ضروری ہوگی۔






