امریکہ میں سعودی عرب کی سفیر نے حوثی تحریک کو ایک مسلح دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہوئے ان کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اتحاد اور مہم چلانے کا مطالبہ کردیا۔
امریکہ میں سعودی عرب کی سفیر شہزادی ریما بنت بندر آل سعود نے خبردار کیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی سرگرمیاں علاقائی سلامتی، عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے حوثیوں کو ایک مسلح دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہوئے ان کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ مہم چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں شہزادی ریما بنت بندر آل سعود نے لکھا کہ حوثی تحریک کا مقابلہ بھی اسی عالمی عزم اور مشترکہ کوششوں کے ساتھ کیا جانا چاہیے، جس کے ذریعے ماضی میں دیگر دہشت گرد تنظیموں کو شکست دی گئی۔
شہزادی ریما نے اپنے مضمون میں مزید لکھا کہ حوثی رہنما عبدالمالک الحوثی نے ایرانی حمایت سے گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران ایک مضبوط نیٹ ورک قائم کیا ہے۔ انہوں نے حوثی تحریک پر الزام عائد کیا کہ وہ بارہا امن معاہدوں کی خلاف ورزی کرتی رہی ہے اور جنگ بندیوں کو دوبارہ اسلحہ جمع کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔
شہزادی ریما نے لکھا کہ مارچ 2016 سے حوثی باغی سعودی عرب پر ایک ہزار سے زائد بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کر چکے ہیں، حوثی خطرات صرف سعودی عرب اور یمن تک محدود نہیں، بلکہ ملیشیا نے آبنائے باب المندب بند کرنے کی دھمکی بھی دی ہے، جہاں سے عالمی تجارت کا تقریباً 10 فیصد گزرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ رواں ماہ سعودی عرب کی توانائی تنصیبات پر حملوں کے باعث تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں۔
شہزادی ریما نے حوثیوں کی جنگی معیشت کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا، جس میں بھتہ خوری کے نیٹ ورکس اور فرنٹ کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے حوثیوں اور دیگر دہشت گرد گروپس کے لیے اپنا مالیاتی نظام بند کر دیا ہے جبکہ پابندیوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔
شہزادی ریما نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ حوثی تحریک کو دہشت گرد تنظیم قرار دیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پہلے ہی حوثیوں کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔
شہزادی ریما نے حوثیوں کا موازنہ داعش سے کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح داعش نے عراق کے شہر موصل پر قبضہ کرنے کے بعد خلافت کا اعلان کیا تھا، اسی طرح عالمی برادری حوثی تحریک کے خطرے کو بھی کم سمجھنے کی غلطی کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حوثیوں کو شکست دینے کے لیے یمنی قیادت میں عالمی سطح پر مشترکہ کارروائی ضروری ہے، جیسا کہ داعش کے خلاف کی گئی تھی۔
شہزادی ریما نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ حوثیوں کی مالی معاونت بند کریں، سمندری راستوں سے اسلحے کی سمگلنگ روکیں اور یمنی حکومت کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ضروری تعاون فراہم کریں۔






